خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 312
خطبات طاہر جلد ۳ 312 خطبه جمعه ۵ ارجون ۱۹۸۴ء فطرت جب مومن کے قالب میں ڈھل کر ایک نئی ضیاء ایک نئی چمک پیدا کر لیتی ہے تو اس کا بھی بہت ہی احسن رنگ میں ذکر فرماتا ہے۔اس میں دو پہلو بڑے نمایاں طور پر پیش فرمائے گئے ہیں۔ایک پہلو تو ہے کمز ور لوگوں کا جو قربانی میں بہت پیچھے ہیں اور جو توقعات ان سے وابستہ ہیں ان توقعات پر پورا نہیں اتر رہے اور اس کی جو وجہ بیان فرماتا ہے وہ بظاہر عام دنیا کے حالات سے مختلف اور الٹ وجہ نظر آتی ہے۔بظاہر تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ اگر کسی راہنما کے ساتھ لگ کر تکلیفیں اٹھانی پڑیں تو انسان کا تعلق اس سے کمزور ہو جاتا ہے اور اگر کسی راہنما کے ساتھ لگ کر نعمتوں سے محرومی حصہ میں آئے تو انسان کا تعلق اس سے کمزور ہونا شروع ہو جاتا ہے، محبت ٹھنڈی پڑنے لگتی ہے اور بسا اوقات پھر ایسے لوگ تعلق تو ڑ کر بالکل جدا ہو جاتے ہیں۔لیکن ایک بالکل الٹ نقشہ کھینچا گیا ہے اور الہی جماعتوں میں جب انسانی فطرت کارفرما ہوتی ہے تو بالکل اسی نقشے کے مطابق کام کرتی ہے۔جہاں تک الہی جماعتوں کا تعلق ہے ایسے لوگوں کی بیماری کا تجزیہ کرتے ہوئے جو کمزوری دکھا رہے ہیں اور جو حق تھا وہ ادا نہیں کر رہے اس کی وجہ یہ بیان فرمائی گئی کہ انہوں نے خدا کی راہ میں تکلیفیں نہیں اُٹھائیں ، یہ آسانی کی زندگی بسر کرنے والے لوگ ہیں جن کو حضرت محمد مصطفی مے کے ساتھ وابستہ ہونے کے بعد طرح طرح کے دکھوں کی آزمائشوں میں سے نہیں گزرنا پڑا اور چونکہ ان کو اس تعلق کے نتیجے میں مصیبتیں نہیں پڑیں اس لئے یہ کمزور ہیں، اس لئے یہ قربانیوں میں پیچھے ہیں۔اس کے برعکس وہ لوگ جن کو مشکلات پڑتی ہیں ، جن کو طرح طرح کی مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ان کے متعلق فرماتا ہے کہ وہ قربانی کرنے والوں کی صف اول میں ہیں۔گویا ہر مصیبت ان کو پیچھے دھکیلنے کی بجائے اور بھی آگے بڑھا دیتی ہے۔یہ ہے وہ مضمون جس کے متعلق میں نے شروع میں ہی کہا تھا کہ ہے تو انسانی فطرت کی بات لیکن انسانی فطرت جب مومن کے قالب میں ڈھلتی ہے تو ایک نیا رنگ اختیار کر لیتی ہے اور اس وقت جو مضمون ظاہر ہوتا ہے نفسیات کا اس کی بحث قرآن کریم فرما رہا ہے۔فرماتا ہے يَا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَكُونُوا مَعَ الصّدِقِينَ کہ اے وہ لو گو جو تقوی اختیار کرتے ہو اللہ کا، دوہی گروہ ہیں یا بچوں کے یا جھوٹوں کے، یا بچوں کا گروہ ہے یا جھوٹوں کا گروہ ہے تو