خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 298 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 298

خطبات طاہر جلد ۳ 298 خطبه جمعه ۱۸ جون ۱۹۸۴ء وَلَا يَحْزُنُكَ الَّذِينَ يُسَارِعُوْنَ فِي الْكُفْرِ إِنَّهُمْ لَنْ يَضُرُّوا اللَّهَ شَيْئًا يُرِيدُ اللَّهُ أَلَّا يَجْعَلَ لَهُمْ حَظًّا فِي الْآخِرَةِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ إِنَّ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الْكُفْرَ بِالْإِيْمَانِ لَنْ يَضُرُّوا اللَّهَ شَيْئًا وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ خَيْرٌ لَّا نُفُسِهِمْ إِنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدَادُوا إِثْمًا وَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ مَا كَانَ اللَّهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ حَتَّى يَمِيزَ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ ↓ وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَجْتَبِي مِنْ رُّسُلِهِ مَنْ يَّشَاءُ فَامِنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ ۚ وَإِنْ تُؤْمِنُوا وَتَتَّقُوا فَلَكُمْ أَجْرٌ عَظِيمٌ) عَظِيمُ (آل عمران : ۱۷۳-۱۸۰) اور پھر فرمایا : ہر انسان کا ایک کی نظر ہوتا ۔ مصلح : A اس مطمح نظر کے قریب ریب ہوتا چلا جاتا ہے اس کے اور جتنا جتنا وہ اس سے ر ہوتا ہے اور جتنا : لئے ایک روحانی لذت کا سامان پیدا ہوتا جاتا ہے اور جب وہ زیادہ قریب ہو جائے تو پھر لوگوں کی انگلیاں اٹھتی ہیں اور وہ کہتے ہیں دیکھو یہ اس کے کتنا قریب ہے یا کتنا مشابہ ہے۔ وہ لوگ جو دنیا دار ہیں ان کے مطر دنیاوی مح نظر ہوتے ہیں ۔ جو نا ر ہوتے ہیں۔ جو مذہبی لوگ ہیں ان کے مذہبی کی نظر ہوتے ہیں چنانچہ بعض ایسے بھی ہیں جو اس بات میں فخر محسوس کرتے ہیں کہ فلاں ایکٹر (Actor) سے ان کی تصویر ملتی ہے اور وہ حلیہ بھی ویسا بنانے لگ جاتے ہیں اپنے بالوں کی قطع تراش کا رنگ ڈھنگ ، اپنے چلنے پھرنے کا انداز یہاں تک کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اب لوگوں کی بھی انگلیاں اٹھیں گی کہ دیکھو یہ فلاں ایکٹر سے ملتا ہے۔ بعض شاعر ایسے ہوتے ہیں جن کا انداز کلام کسی گزشتہ بڑے شاعر سے ملتا ہے اور وہ اس پر فخر کرتے ہیں اور لوگ کہتے ہیں کہ دیکھو اسے فلاں شاعر کا سا انداز نصیب ہو گیا چنانچہ اس شوق میں ایک شاعر یہاں تک بھی کہتا ہے کہ ه نہ ہوا پر نہ ہوا میر سا انداز نصیب ذوق یاروں نے بہت زور غزل میں مارا تو کوشش بھی کرتے ہیں محنت بھی کرتے ہیں لیکن بعض اپنے مطمح نظر کے قریب نہیں پہنچ سکتے ۔ یہ سارے