خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 298
خطبات طاہر جلد ۳ 298 خطبہ جمعہ ۸/ جون ۱۹۸۴ء وَلَا يَحْزُنُكَ الَّذِينَ يُسَارِعُوْنَ فِي الْكُفْرِ إِنَّهُمْ لَنْ يَضُرُّوا اللهَ شَيْئًا يُرِيدُ اللهُ أَلَّا يَجْعَلَ لَهُمْ حَظَّا فِي الْآخِرَةِ ۚ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ إِنَّ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الْكُفْرَ بِالْإِيْمَانِ لَنْ يَضُرُّوا اللَّهَ شَيْئًا ۚ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمُ وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوا أَنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ خَيْرٌ لَّا نْفُسِهِمْ ۖ إِنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدَادُوا إِثْمًا وَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ مَا كَانَ اللهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ حَتَّى يَمِيْنَ الْخَيْثَ مِنَ الطَّيِّبِ وَمَا كَانَ اللهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ وَلَكِنَّ اللهَ يَجْتَبِي مِنْ رُّسُلِهِ مَنْ يَشَاءُ فَامِنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ وَإِنْ تُؤْمِنُوْا وَتَتَّقُوا فَلَكُمْ أَجْرُ عَظِيم (آل عمران :۱۷۳-۱۸۰) ه اور پھر فرمایا: ہر انسان کا ایک مطمح نظر ہوتا ہے اور جتنا جتنا وہ اس تطمح نظر کے قریب ہوتا چلا جاتا ہے اس کے لئے ایک روحانی لذت کا سامان پیدا ہوتا جاتا ہے اور جب وہ زیادہ قریب ہو جائے تو پھر لوگوں کی انگلیاں اٹھتی ہیں اور وہ کہتے ہیں دیکھو یہ اس کے کتنا قریب ہے یا کتنا مشابہ ہے۔وہ لوگ جو دنیا دار ہیں ان کے دنیاوی مح نظر ہوتے ہیں۔جو مذہبی لوگ ہیں ان کے مذہبی مح نظر ہوتے ہیں چنانچہ بعض ایسے بھی ہیں جو اس بات میں فخر محسوس کرتے ہیں کہ فلاں ایکٹر (Actor) سے ان کی تصویر ملتی ہے اور وہ حلیہ بھی ویسا بنانے لگ جاتے ہیں اپنے بالوں کی قطع تراش کا رنگ ڈھنگ،اپنے چلنے پھرنے کا انداز یہاں تک کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اب لوگوں کی بھی انگلیاں اٹھیں گی کہ دیکھو یہ فلاں ایکٹر سے ملتا ہے۔بعض شاعر ایسے ہوتے ہیں جن کا انداز کلام کسی گزشتہ بڑے شاعر سے ملتا ہے اور وہ اس پر فخر کرتے ہیں اور لوگ کہتے ہیں کہ دیکھو اسے فلاں شاعر کا سا انداز نصیب ہو گیا چنانچہ اس شوق میں ایک شاعر یہاں تک بھی کہتا ہے کہ نہ ہوا پر نہ ہوا میر سا انداز نصیب ذوق یاروں نے بہت زور غزل میں مارا مط تو کوشش بھی کرتے ہیں محنت بھی کرتے ہیں لیکن بعض اپنے مطمح نظر کے قریب نہیں پہنچ سکتے۔یہ سارے