خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 295 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 295

خطبات طاہر جلد ۳ 295 خطبہ جمعہ ارجون ۱۹۸۴ء یہ خوش خبری ان کو دیتا ہوں کہ وہ میرے ہیں اور میں ان کا ہوں۔(کنز العمال، الا کمال الباب السابع ، فضائل في هذه الامة المرحومة، المجلد الثانی عشر) تو جس جماعت کے نصیب میں ، جس کے مقدر میں یہ لکھا جائے کہ چودہ سو سال پہلے حضرت اقدس محمد مصطفی عملے کو ان کا حال بتا دیا گیا تھا، بتایا گیا تھا کہ ان کے سارے حقوق تلف کر لئے جائیں گے لیکن وہ اپنی طرف سے سارے حقوق ادا کرتے رہیں گے اور چودہ سو سال پہلے حضور نے یہ پیغام بھیجا ہو ہمیں کہ میں تمہارا ہوں تم میرے ہو اس سے بڑھ کر اور کیا جنت ہمارے لئے ہوسکتی ہے۔پس یہ بھی خوش خبری ہے و طوبیٰ لکم اے محمد مصطفی ﷺ کے غلاموا تمہیں طوبی ہو، تمہیں بے انتہا بر کتیں اور خوش خبریاں خدا کی طرف سے پہنچتی رہیں کہ تم محمد مصطفی ﷺ کے ہو چکے ہو اور محمد مصطفی ﷺ تمہارے ہو گئے۔اس کے بعد ایک اعلان کرنا ہے دو جنازہ ہائے غائب کا، ایک جنازہ غائب تو مکرم محترم مولانا سید شاہ محمد صاحب سابق مبشر انڈونیشیا کا ہے۔بڑے فدائی، خدمت کرنے والے، دعا گو، صاحب کشف بزرگ تھے اور حتی المقدور ہمیشہ خدمت میں مصروف رہے۔ان کے متعلق معلوم ہوا کہ ان کو انڈو نیشیا میں ہارٹ اٹیک ہوا جس کی وجہ سے وہ وفات پاگئے۔اسی طرح ایک خاتون ہیں آپا سلیمہ بیگم جو حیدر آباد دکن کے ایک نہایت مخلص خاندان کی خاتون ہیں اور سیٹھ غلام غوث صاحب کی صاحبزادی ہیں۔ان کو ہمیشہ سے ہی جماعت سے بہت ہی غیر معمولی عشق رہا ہے اور مجھے یاد ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا نام آتے ہی یا آپ کے خلفاء کا بلکہ آپ کے بچوں کا، بے اختیار ان کی آنکھوں سے آنسو برسنے لگتے تھے اور ان کی یہ چھیٹر بن گئی تھی کہ آپا کو تو بس نام لے لو کوئی مسیح موعود علیہ السلام یا خلیفہ وقت کا یا آپ کے بچوں کا تو یہ وفور جذبات سے رونے لگ جاتی ہیں اور واقعتہ آنسوؤں سے روتی تھیں یعنی ایسی محبت تھی کہ برداشت نہیں ہوتی تھی۔تو یہ بھی بڑی ایک لمبی بیماری کے بعد وفات پاگئی ہیں کراچی میں ، یہ غیر معمولی چونکہ عشق کا جذبہ رکھتی تھیں اس لئے ان کا بھی حق ہے ان کے لئے بھی نماز جنازہ غائب پڑھائی جائے گی۔