خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 285 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 285

خطبات طاہر جلد ۳ حق میں بھی اور دعا ئیں تیز کر دیں۔ 285 خطبه جمعه ارجون ۱۹۸۴ء لیکن جیسا کہ میں نے گزشتہ خطبہ میں بھی کہا تھا اسلام ایک متوازن مذہب ہے کوئی جذباتی صلى الله مذہب نہیں ہے جو یک طرفہ رخ اختیار کرے اور پھر اسی سی سمت چلتا ہی چلا جائے ، آنحضرت علی سے عروسہ سے اپنے توازن سیکھنا چاہئے ۔ حضرت اقدس محمد مصطفیٰ اللہ جو شدید دشمنوں کے لئے بھی دعا کرنے والے تھے خصوصاً وہ جو جہالت میں ظلم کرتے تھے ۔ آپ کے متعلق آتا ہے کہ جب بدن زخمی تھا، لہولہان تھا ہی خون سے آپ کے موزے اس طرح بھر گئے تھے اور جوتے کہ چلا نہیں جاتا تھا۔ اپنے خون کی پھسلن بن گئی تھی ، اس وقت بھی آپ نے ان کے لئے دعا کی کیونکہ آپ جانتے تھے کہ یہ لوگ جاہل ہیں اور ان کو علم نہیں ہے یہ کیا کر رہے ہیں اور کس کے ساتھ کر رہے ہیں لیکن اس کے باوجود ائمۃ الکفر کے خلاف، ائمۃ التکفیر کے خلاف آپ نے بد دعا بھی کی ہے اور ایک مرتبہ نہیں کئی مرتبہ بددعا کی ہے کیونکہ بعض دفعہ انسان کی فطرت صحیحہ یہ بتا دیتی ہے کہ بعض لوگ اپنے ظلم اور سفا کی میں ایسا بڑھ چکے ہیں اور امام بن گئے ہیں تکفیر کے، ان کے مقدر میں ہدایت ہو ہی نہیں سکتی ۔ ایسے موقع پر چوٹی کے بعض لوگ جو اس ظلم اور سفا کی کے راہنما ہوں اور لیڈر ہوں اور اپنی شرارت میں پیچھے ہٹنے کی بجائے دن بدن آگے بڑھتے چلے جارہے ہوں ان کے لئے بد دعا سنت نبوی ہے اس لئے میں نے بددعا کی جب اجازت دی تو کوئی اپنی طرف سے نعوذ باللہ من ذالک سنت سے گریز نہیں کیا بلکہ سنت نبوی کو مد نظر رکھتے ہوئے ایسی بات کہی ۔ چنانچہ حضرت ابن عباس کی روایت ہے بخاری میں کہ جنگ بدر کے وقت بعض ائمہ التکفیر کے خلاف آنحضرت ﷺ علوسه ۔ نے نام لے لے کر بددعائیں کیں اور پھر اللہ تعالیٰ نے آر آپ کو بتایا کہ ان کی لاشیں کہاں کہاں پڑی ہوں گی ۔ (السیرۃ الحلبیہ جلد دوم نصف آخر ز بر غزوہ بدر صفحه : ۴۰۰) چنانچه وہ کہتے ہیں کہ ہم نے دیکھا کہ ایسے بدحال میں ان کی لاشیں پڑی ہوئی تھیں کہ دھوپ نے ان کو متغیر کر دیا تھا اور وہ عبرت کا نشان بنے ہوئے تھے ۔ اس لئے سنت نبوی کے مطابق وہ لوگ جو آنکھیں کھول کر شرارت اور فساد کی نیت سے اور نہایت ظالمانہ بے باکی کے ساتھ دن بدن مظالم میں بڑھتے چلے جارہے ہیں ان کے خلاف بد دعا بھی مومن کی تقدیر کا ایک حصہ ہے اس لئے اس رمضان سے پورا فائدہ اٹھائیں ، اپنی دعاؤں کو بھی انتہاء تک پہنچا دیں اور خدا کی نظر میں جو ائمۃ التکفیر ہیں ان کے