خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 259 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 259

خطبات طاہر جلد ۳ 259 خطبه جمعه ۱۸ مئی ۱۹۸۴ء چھلانگیں لگا کر لوگ پارا تر نے شروع ہو جاتے ہیں، جتنا کر یہ المنظر بورڈ آویزاں کرتے ہیں اتنا ہی ذوق اور شوق اور محبت کے ساتھ لوگ ان کی طرف دوڑے چلے جارہے ہیں۔یہی واقعہ تھا یہ گواہی ہے آج جو کچھ ہو رہا ہے اس حق میں کہ جو میں کہہ رہا ہوں وہ سو فیصد ہی درست بات ہے ، ان کو سمجھ آگئی کہ ہماری ہر تدبیر الٹ ہوگئی ہے ہر تد بیر نا کام ہوگئی ہے اس لئے اب آگے بڑھو اور اور روکیں کھڑی کرولیکن یہ نہیں جانتے کہ ہمارا خدا ہر روک کو توڑنا جانتا ہے جتنی روکیں تم کھڑی کرو گے اتنی زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ اور لوگ احمدیت میں داخل ہوں گے اور یہی ہو کر رہے گا۔اب نمازوں سے روکنے کی طرف انہوں نے توجہ کی تو اس قدر ایک طوفان آ گیا ہے روحانیت کا کہ آپ تصور نہیں کر سکتے ، چھوٹے چھوٹے بچے خط لکھتے ہیں اور رو رو کر وہ کہتے ہیں کہ ہم اپنے آنسوؤں سے یہ خط لکھ رہے ہیں کہ خدا کی قسم ہمیں ایک نئی روحانیت عطا ہوگئی ، ہم تہجدوں میں اٹھنے لگے، ہماری عبادتوں کی کیفیت بدل گئی ہے۔اس جماعت کو کون مارسکتا ہے جس کے مقابل پر ہر تدبیر خدا نے الٹادی ہو؟ عبادتوں پر حملہ کیا تو جن بچوں کے متعلق آپ تصور بھی نہیں کر سکتے تھے وہ پانچ نمازیں بھی نہیں پڑھا کرتے تھے آج وہ تہجد میں اٹھ کر روتے ہیں اور خدا کے حضور گریہ وزاری کرتے ہیں اور نمازوں کا لطف حاصل ہو گیا ہے ان کو۔تو یہ تو بہر حال خدا کی ایک ایسی تقدیر ہے جو نہیں بدل سکتی، ساری کائنات مل کر زور لگا لے اس تقدیر کو کوئی نہیں بدل سکے گی، جتنی یہ مخالفتوں میں زیادہ بڑھیں گے اتنا ہی زیادہ اللہ تعالیٰ جماعت کو ہر اس سمت میں برکت دے گا جس سمت میں یہ روکنے کی کوشش کریں گے۔اس لئے مبارک ہو آپ کو کہ ان کے ارادے بہت بد ہیں کیونکہ خدا کے ارادے بہت ہی نیک ہیں ہمارے حق میں ہر بدار ادے کو توڑ دیا جائے گا اور الٹ نتیجے پیدا کئے جائیں گے لیکن ایک یہ بات بھی ہے کہ جب خدا کی تقدیر کی ہوا چلتی ہے تو ہماری تقدیروں کو بھی تو اس کی سمت میں چلنا چاہئے اسی طرف قدم اٹھانے چاہئے، یہ تو نہیں ہوا کرتا کہ خوش گوار ہوائیں چلیں تو کشتی والے اپنے بادبان لپیٹ لیں ، وہ تو کھول دیتے ہیں بادبانوں کو اور اسی کا نام تدبیر ہے۔خدا کی تقدیر کے رخ پر قوموں کو تد بیر اختیار کرنی چاہئے ، اس وقت تو بعض اوقات چپو بھی لہرانے لگتے ہیں ساتھ کہ پھر کبھی ایسی اچھی ہوا ملے کہ نہ ملے اس لئے اپنے دست بازو کی کوشش کو بھی ساتھ شامل کر لو۔آج وہی وقت