خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 258
خطبات طاہر جلد ۳ 258 خطبه جمعه ۱۸ امتی ۱۹۸۴ء شخص کو حق نہیں دیتی عبادت کا تمام بنی نوع انسان کو برابر کا حق دے دیتی ہے رحمۃ للعالمین اس کو کہتے ہیں ۔ صلى الله چنانچہ آنحضرت ﷺ نے ایک موقع پر عیسائیوں کو یہ تحریر لکھ کر دی کہ اگر کسی مسلمان نے ان کے گرجے کو بد نظر سے دیکھا ، ان کی صلیبوں کو توڑا تو ان کا میرے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ قرآن صلى الله کریم م کی اسی قسم کی آیات کا ت تفسیری مظاہرہ ہے آنحضور علی کا۔ تو بہر حال جو ایک بدارادے پر قائم ہو جاتے ہیں بعض دفعہ وہ نہیں سمجھتے تنبیہات بیکار جایا کرتی ہیں اس لئے دعاؤں کی بھی ضرورت ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت دے، ان کو ایسے معاملات میں دخل اندازی سے باز رکھے جس میں دخل اندازی کا خدا نے کسی انسان کو حق نہیں عطا فرمایا۔ جہاں تک ہمارا تعلق ہے ہم تو یہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر نے ہمیشہ ان باتوں کے الٹ نتائج ظاہر کئے ہیں جو ہمارے خلاف دشمنوں نے مکر اور تدبیریں کیں۔ احمدیت کی تاریخ میں ایک دن بھی ایسا نہیں آیا جب کہ دشمن کے ارادوں کے وہ نتائج ظاہر ہوئے ہوں اور ان کی تدابیر کے وہ نتائج برآمد ہوئے ہوں جو مقصد تھا انکا کہ ہم یہ کریں گے تو یہ نتیجہ نکلے گا۔ چنانچہ آپ دیکھ لیں جب بھی انہوں نے جب بھی جماعت احمدیہ کے مال لوٹے ہیں جماعت کے اموال میں برکت ہوئی، جب مسجدوں کو منہدم کیا ہماری مسجدوں میں برکت ہوئی ، ہمارے نفوس ذبح کئے ہمارے نفوس میں برکت ہوئی، جب قرآن کریم جلائے احمدیوں کے پکڑ کر حالانکہ وہ ہی قرآن تھا جو محمد مصطفیٰ علی کا پکڑ قرآن تھا تو قرآن کی اشاعت میں بے شمار برکت ہوئی، جب انہوں نے تبلیغ پر پابندیاں لگائیں تو تبلیغ میں برکت ہوئی تو آپ دیکھ لیں کہ جب 1974ء میں یہ فیصلہ ہوا کہ یہ غیر مسلم ہے تو اس سے پہلے یہ علما اس بات کو کھول چکے تھے کہ واقعہ یہ ہے کہ لوگ بھولے پن میں دھوکے میں آکر احمدی ہو رہے ہیں جب تک ان پر مسلمان کا لیبل لگا ہوا ہے وہ ہوتے رہیں گے۔ جب مسلمان کا لیبل ہٹا دیں گے تو پھر دیکھنا کہ کس طرح لوگ رک جاتے ہیں ، کسی کو جرات نہیں ہوگی کسی کو ہمت نہیں ہوگی کہ غیر مسلم کا بورڈ آ۔ کا بورڈ آگے لگا ہوا ہو اور پھر حد کراس کر کے پار اتر کر وہ غیر مسلموں میں شامل ہو جائیں لیکن ان کی ہر تد بیر کا خدا نے ہمیشہ الٹ نتیجہ نکالا اور 74ء کے بعد اتنی تیز رفتاری پیدا ہوگئی تبلیغ میں کہ ان کی عقلیں گم ہو گئیں سمجھ نہیں آتی تھی کہ یہ ہو کیا رہا ہے۔ جتنی بڑی دیوار بناتے ہیں اتنی بڑی بڑی