خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 231
خطبات طاہر جلد ۳ 231 خطبه جمعه ۴ رمئی ۱۹۸۴ء جن کی کوئی شہری حیثیت باقی نہیں رکھی گئی تھی ، جو چاہتا تھا ان کوز دوکوب کرتا ، ان کو مارتا، انکو گالیاں دیتا ، ان کو گلیوں میں گھسیٹتا اور اس کے باوجود حضرت مسیح یہ کہہ رہے ہیں کہ میرے لئے اللہ کی خاطر، اللہ کی جانب مدد گار بن جاؤ۔اگر اس واقعہ میں کوئی عظمت نہیں تھی، کوئی مخفی پیغام نہیں تھا تو ناممکن ہے کہ آنحضور ﷺ کو مخاطب کر کے انہی الفاظ میں مددگار طلب کرنے کی ہدایت دی جاتی۔ایک تو یہ پہلو ہے جو تعجب انگیز ہے اور قابل غور اور ایک اور یہ پہلو ہے کہ اللہ کو مددگاروں کی ضرورت کیا ہے؟ مدد تو اللہ کی طرف سے آتی ہے۔یہ کیا قصہ ہے کہ چند مظلوم بندوں کو چند مقہور بندوں کو خدا مدد کے لئے بلا رہا ہے جب کہ وہ آپ مدد کے بہت محتاج ہیں؟ جب اس پہلو پر ہم غور کرتے ہیں تو یہ سارا معمہ حل ہو جاتا ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ بتانا چاہتا ہے کہ جب تک تم اپنے دل و جان سے خدا کی مدد کے لئے تیار نہیں ہو گے اس وقت تک اللہ کی مدد تمہارے اوپر نازل نہیں ہوگی اور خدا اعدادوشمار میں اور کیمیت اور کیفیت میں ہر مدد سے مستغنی ہے اس لئے یہ سوال نہیں ہوا کرتا کہ تم خدا کی مدد کے لئے کیا پیش کرو گے؟ اللہ تعالیٰ صرف یہ تقاضا کرتا ہے کہ جو کچھ ہے وہ پیش کر دو اور میرے پاس جو کچھ ہے میں اس کے جواب میں پیش کردوں گا اس کے نتیجہ میں غلبہ نصیب ہوگا۔اگر کوئی غریب ہے جس کے پاس چار آنے ہیں تو اللہ کی مدد کے لئے وہ چار آنے پیش کرے گا اور خدا جو تمام خزانوں کا مالک ہے کیسے ممکن ہے کہ جب اس غریب کو مدد کی ضرورت پڑے تو اپنے سارے خزانے اس کے لئے نہ کھول دے ! پس یہ مضمون ہے جو ان آیات میں بیان فرمایا گیا اور آنحضرت ﷺ کو متوجہ کیا گیا کہ دیکھو میرے معاملہ میں کسی مایوسی کا کوئی سوال نہیں ، سب سے کمزور نبی کی مثال میں تمہیں دیتا ہوں ، ایسا نبی جس کے مقابل پر کمزوری میں سارے عالم میں کوئی اور نبی نظر نہیں آئے گا۔اس کے ماننے والے اتنے کمزور اور بے بس اور نہتے تھے اور ان کے مقابل پر اتنی عظیم سلطنت تھی کہ ان کی کوئی حیثیت ہی نہیں تھی اس قدر وہ بے حیثیت لوگ تھے اور اتنا بے حیثیت واقعہ تھا کہ روم کی تاریخ سالہا سال بعد تک بھی اس واقعہ کا کوئی ذکر نہیں کرتی۔یہ دل گھٹانے والا واقعہ نہیں یہ دل بڑھانے والا واقعہ ہے۔یہ اللہ تعالیٰ بیان فرمانا چاہتا ہے کہ جب انہوں نے میرے نام کی خاطر اپنے وہ بیکار وجود پیش کر دیئے اور میں نے انھیں کو قبول کیا تو اے محمد عربی عملہ اتم جو اس کا ئنات کا خلاصہ ہو تم جب