خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 230
230 خطبه جمعه ۴ رمئی ۱۹۸۴ء خطبات طاہر جلد ۳ میں ہر قربانی پیش کرنے کے لئے ہم تیار ہیں۔پس آج جماعت احمدیہ کی تاریخ میں بھی ایک ایسا ہی وقت ہے اور جو آیت میں نے تلاوت کی وہ اس وقت کے عین مناسب حال ہے۔قرآن کریم فرماتا ب يَا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا اَنْصَارَ اللهِ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ کے انصار بن جاؤ اللہ کے مددگار ہو جاؤ کہ آج مدد کا وقت ہے كَمَا قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ لِلْحَوَارِينَ جیسا کہ عیسی ابن مریم نے اپنے ساتھیوں سے کہا تھا مَنْ أَنْصَارِی إِلَى اللهِ کون ہے جو آج اللہ کی خاطر، اللہ کی جانب میری مدد کرنے والا ہے؟ قَالَ الْحَوَارِثُونَ نَحْنُ أَنْصَارُ الله ان حواریوں نے یہ جواب دیا کہ ہم ہیں اللہ کے انصار فَأَمَنَتْ طَائِفَةٌ منْ بَنِي اِسراءیل تو بنی اسرائیل میں سے ایک گروہ کو اللہ نے یہ توفیق بخشی کہ وہ ایمان لے آئے اور ایک گروہ نے انکار کر دیا۔پس اللہ فرماتا ہے کہ ہم نے ان لوگوں کی مدد فرمائی جو ایمان لائے تھے اور ان لوگوں کو ان پر غالب کر دیا جنہوں نے انکار کیا تھا۔یہ واقعہ جس کی طرف قرآن کریم نے اشارہ فرمایا ہے ایک حیرت انگیز واقعہ ہے۔جب اس پہلو سے دیکھتے ہیں تو وہ لوگ جن سے حضرت مسیح نے خدا کے نام پر ، خدا کی طرف ،خدا کی جانب مدد مانگی تھی ان کی اپنی حیثیت کیا تھی ؟ گنتی کے چند درویش صفت لوگ تھے ان کے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔ایک عظیم مغربی مملکت میں جس کی حدیں مشرق وسطی سے شروع ہوتی تھیں اور مغرب تک چلی جاتی تھیں، جس میں وہ آباد تھے اور اپنے وطن اپنے شہر میں بھی ان کی کوئی حیثیت نہیں تھی۔اتنے مظلوم اور بے کس تھے کہ جب حضرت مسیح کو صلیب پر لٹکایا گیا تو ان میں سے کوئی بھی کچھ نہیں کر سکا۔پھر وہ کیسی مد تھی جو حضرت مسیح نے اُن سے مانگی؟ اگر وہ مدد اس لائق نہیں تھے کہ اس کا ذکر کیا جاتا تو ناممکن ہے کہ حضرت محمد مصطفی ﷺ کو مخاطب کر کے وہ واقعہ یاد دلایا جا تا اور یہ ارشاد فرمایا جاتا کہ تم بھی اسی طرح کہو کہ مجھے انصار کی ضرورت ہے جس طرح مسیح میرے ایک مظلوم بندے نے کہا تھا۔تو یہ ہوتا ہے یہ انصارِی اِلَی اللہ کا مضمون کوئی دنیا کے مضمون سے مختلف مضمون ہے جہاں فوجی اور جفاکش اور حملہ آور اور جنگجوؤں کی ضرورت نہیں ہے یعنی دنیا کے بڑے بڑے مال داروں کی ضرورت نہیں ہے، دنیا کے بڑے بڑے طاقتور سیاستدانوں کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ان میں سے ایک بھی ایسا نہیں تھا جس نے اس آواز پر لبیک کہا ہو۔وہ کون لوگ تھے جن پر دنیا ہنستی تھی، معلوم