خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 229 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 229

خطبات طاہر جلد ۳ 229 خطبه جمعه ۴ رمئی ۱۹۸۴ء مَنْ أَنْصَارِى إِلَى اللهِ خطبه جمعه فرموده ۴ رمئی ۱۹۸۴ء بمقام مسجد فضل لندن) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور نے درج ذیل آیت کی تلاوت فرمائی: يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا أَنْصَارَ اللهِ كَمَا قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ لِلْحَوَارِينَ مَنْ اَنْصَارِى إِلَى اللَّهِ ۖ قَالَ الْحَوَارِيُّونَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللهِ فَأَمَنَتْ طَابِفَةٌ مِّنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَ كَفَرَتْ ظَابِفَةٌ فَأَيَّدُنَا الَّذِيْنَ امَنُوْا عَلَى عَدُوهُمْ فَأَصْبَحُوا ظُهِرِينَ (الصف: ۱۵) اور پھر فرمایا: قوموں کی زندگی میں بعض ایسے وقت آتے ہیں جن میں بہت ہی اہم اور بنیادی فیصلوں سے تو میں دو چار ہوا کرتی ہیں۔مذہبی قوموں کی زندگی میں بھی ایسے دن آیا کرتے ہیں اور دنیاوی قوموں کی زندگی میں بھی ایسے دن آیا کرتے ہیں اور دنیا کی زبان میں جب ایسا وقت آتا ہے تو یہ سوچا جاتا ہے کہ To be or not to be۔That is the Question اب ہم نے رہنا ہے یا نہیں رہنا یہ سوال ہے جو آج پیش نظر ہے۔لیکن مذہبی دنیا میں یہ سوال اس طرح نہیں اٹھایا جاتا کیونکہ مذہبی دنیا جو خدا کی نمائندہ ہوتی ہے اس کے لئے نہ رہنے کا کوئی سوال نہیں ہوا کرتا ، اس کے لئے صرف ایک ہی سوال ہے کہ ہم نے رہنا ہے اور ہم نے رہنا ہے اور ہم نے رہنا ہے اور اس راہ