خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 228
خطبات طاہر جلد ۳ 228 خطبه جمعه ۲۰ را پریل ۱۹۸۴ء نوع انسان کے لئے رحمت ہو جاؤ اور جو شخص رحمت ہو جاتا ہے اس کی زبان کسی کو چر کے لگائے اور دکھ دے یہ ہو ہی نہیں سکتا۔ اس لئے وہ اپنی ذات کا منافق ہے اپنے اندرونے کا منافق ہے۔ جب وہ زخم لگاتا ہے غیر کو تو اپنی فطرت پر زخم لگا رہا ہوتا ہے جو خدا تعالیٰ نے اسے عطا فرمائی ہے جس کی اس سے توقع رکھتا ہے۔ جماعت احمد یہ کے اندر بہر حال منافقت نہیں ہونی چاہئے اور جہاں منافقت کی یہ چار صفات آپ دیکھیں وہیں نصیحت اور محبت اور پیار کے ساتھ انکو دور کرنا شروع کر دیں کیونکہ جس حد تک منافقت دور ہوتی ہے معاشرہ سے اس حد تک وہ حق کو قبول کرنے کے قریب آتا چلا جاتا ہے۔ جس حد تک منافقت بڑھتی چلی جاتی ہے اس حد تک وہ حق کو قبول کرنے سے دور ہٹتا چلا جاتا ہے اس لئے یہ ابتدائی چار قدم ہیں قوم کی آخری اصلاح کے لیے اگر یہ قدم آپ نہیں اٹھائیں گے تو آخری اصلاح ممکن ہی نہیں ہے۔ اور میرا مخاطب پاکستان کا احمدی نہیں ہے، میرا مخاطب تمام دنیا کا احمدی ہے۔ امریکہ کا بھی ، افریقہ کا بھی ، انگلستان کا بھی ، سپین کا بھی ، چین کا بھی ، جاپان کا بھی کیونکہ ہر ملک میں یہ چاروں بیماریاں مختلف سطح پر پائی جاتی ہیں ۔ بعض جگہ پالش کی گئی ہے جس طرح Pill یعنی کڑوی گولی پر پالش کر دی جاتی ہے میٹھے کی تاکہ پتہ نہ نہ لگے تو بعض قو میں نہایت بیہودہ کلامی ره کلامی کرتی ہیں ایک دوسر۔ دوسرے سے لیکن نہایت مرصع بڑی بھی ہوئی زبان میں ۔ جیسے یوپی (ہندوستان ) میں جب تہذیب نے ترقی کی تھی تو بڑی تہذیب کے ساتھ گالیاں دیتے تھے ایک دوسرے کو، بڑے ادب کے ساتھ کہ جناب والا آپ کی شان میں گستاخی نہ ہو تو میں عرض کروں گا کہ آپ بڑے خبیث فطرت انسان ہیں۔ تو چاہے آپ لپیٹ لیں مرصع کریں پالش کریں میٹھا بنالیں گالی تو گالی ہی رہے گی اس لئے جماعت احمد یہ کو منافقت کی ہر قسم کے خلاف نصیحت کا جہاد کرنا چاہئے ۔ اگر آپ یہ کریں گے تو قرآن کریم آپکو خوش خبری دیتا ہے کہ كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تم ہی وہ بہترین امت ہو جس کو میں نے زمانہ کی اصلاح کے لئے اور اسکے فوائد کی خاطر پیدا کیا ہے۔ اس سے عظیم الشان مقام کیا ہو سکتا ہے کہ ایک جماعت پر خدا کے پیار کی نظریں پڑ رہی ہوں اور فرشتے یہ تحسین کے کلمے کہہ رہے ہوں کہ ہاں تمہی وہ بہترین امت ہو! ہاں تم ہی وہ بہترین امت ہو ہاں تم ہی وہ بہترین امت ہو جو حضرت محمد مصطفیٰ علی کی غلامی میں دنیا کے فائدہ کی خاطر پیدا کی گئی ہو۔ صلى الله