خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 227
خطبات طاہر جلد ۳ 227 خطبه جمعه ۲۰ را پریل ۱۹۸۴ء د رہا ہے کہ تیرے مخالفوں کی یہ حالت ہے اور بعض دفعہ بیماری کی طرف متوجہ کرنے کے لئے بتانا پڑتا ہے لیکن وہ جس کا کام ہے جس کو مامور کیا گیا ہے وہ بیماریوں کی حالت کھول کر بیان کرتا ہے اور اس کے اپنے اسوہ پر اس کا کوئی بھی اثر نہیں پڑتا ، روز مرہ کی زندگی میں وہ اسی طرح حوصلہ والا اور برداشت والا ہوتا ہے۔ لوگ اس کو گالیاں دیئے جاتے ہیں اور وہ حوصلے سے برداشت کرتا ہے اور لوگوں کو بھی اس کے مقابل پر سختی نہیں کرنے دیتا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق آتا ہے کہ ایک مجلس میں آپ تشریف فرما تھے ۔ غالباً یو۔ پی سے ایک آدمی آیا اور اس نے نہایت بدکلامی کی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب جواب دیا تو اس نے کہا میں جانتا ہوں ایسے دھو کے بازوں اور دجالوں کو ، مجھ سے تم کیا بات کرتے : کرتے ہو ۔ صحابہ کو طیش آیا مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والے ۃ والسلام نے روک دیا، بالکل کچھ نہیں کہنا ۔ جب وہ بات ختم کر لیتا تھا تو حضور اس کا جواب دینا شروع کر دیتے تھے یہاں تک کہ آخر پر اس نے کہا کہ میں نے ساری زندگی میں ایسا حوصلے والا انسان بھی نہیں دیکھا ۔ (سیرت حضرت مسیح به موعود علیه السلام از یعقوب علی عرفانی صاحب جلد سوم صفحه : ۴۵۱) تو خدا تعالیٰ کے ماموروں کو جب اللہ تعالیٰ ایک دوا کے طور پر ایک بیماری کے تجزیئے کے طور پر بعض حقائق بتاتا ہے تو اسے گالی نہیں کہا جاتا لیکن ان باتوں کو پکڑ کر آگے لوگوں میں اس طرح کہنا یہ منع ہے اور اس کی قرآن کریم اجازت نہیں دیتا۔ چنانچہ قرآن کریم میں ان آیات کے باوجود ہرگز ثابت نہیں کہ حضرت اقدس محمد مصطفی اللہ نے یا آپ کے صحابہ نے گلیوں میں لوگوں کو یہ کہنا شروع کر دیا ہو عُتُلٍ بَعْدَ ذَلِكَ زَنِيمِ نہایت نرمی، محبت اور پیار سے گفتگو فرماتے تھے اور یہ چیز اور مقصد کی خاطر ہے اور خدا تعالیٰ کے خاص ایماء پر بیان کی گئی ہے۔ تو جماعت احمد یہ کو ہرگز گالی نہیں دینی۔ جتنی مرضی دشمن آپ کو گالیاں دے ، جتنا مرضی فحش کلامی سے کام لے آپ نے صبر اور حوصلے سے کام لینا ہے اگر نہیں لیں گے تو آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ منافق ہو جاؤ گے ۔ عجیب علامت منافق کی بتائی ہے جس کا عام دنیا کی عقل سے تعلق نہیں ۔ ہے ایک غیر معمولی عارف باللہ ہی یہ سوچ سکتا ہے کہ یہ منافقت ہے۔ اب غور کریں کہ یہ منافقت کیوں ہے؟ منافقت اس لئے ہے کہ مومن کی فطرت ایسی ہے جو ہر ایک سے محبت کرتی ہے پیار کرتی ہے، اور خدا تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ تم بنی صلى الله