خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 226
خطبات طاہر جلد ۳ 226 خطبه جمعه ۲۰ را پریل ۱۹۸۴ء بھی آپ نے کبھی کسی عہد کو نہیں توڑا۔ ساری زندگی ہمیشہ دشمن اپنے عہد توڑتے رہے لیکن حضرت محمد مصطفی نے عہدوں کی حفاظت فرمائی ہے اور اسی کی تلقین فرمائی۔ صلى الله پس جماعت احمدیہ کو بھی اس بات کو مضبوطی سے پکڑ لینا چاہئے خواہ وہ تاجر ہوں یا Industrialist یعنی کارخانے دار ہوں ، خواہ وہ ملازم ہوں ، اب ملازمت میں بھی ایک معاہدہ ہوتا ہے اور بظاہر انسان کو یہ محسوس بھی نہیں ہوتا کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں لیکن معاہدہ شکنی جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے جھوٹ ہی کی ایک قسم ہے۔ معاہدہ ہوتا ہے اور بعض دفعہ تحریری بعض دفعہ غیر تحریری ، توقع کی جاتی ہے بعض ملازموں سے کہ جب ہم تمہیں اتنی تنخواہ دیں گے تو تم یہ کام کرو گے۔ جب آپ ڈلیک سے اٹھ کر چلے جائیں گے اور وہ کام نہیں کریں گے بہت سا وقت گپوں میں لگا دیں گے تو جھوٹ تو نہیں آپ بول رہے لیکن بد عہدی ضرور کر رہے ہیں اور عملی جھوٹ کی ایک قسم ہے بد عہدی اس لئے آنحضور ﷺ نے اسکو جھوٹ سے الگ بیان فرمایا ہے کیونکہ اس کا دائرہ بعض دفعہ مختلف ہو جاتا ہے۔ پھر ایک اور آنحضور ﷺ نے وضاحت فرمائی منافق کی کہ جب مباحثہ کرے جب اختلافی امور پر گفتگو کرے تو گالیاں اور بخش کلامی شروع کر دے ۔ فرمایا مومن کی شان کے یہ خلاف ہے۔ اور اب دیکھیں کہ نصیحت کرنے والوں کے لئے کتنا ضروری ہے یہ ۔ ایک ایسی جماعت جو نصیحت پر مامور ہوا اگر کوئی اس کو آگے سے اس سے بدسلوکی سے پیش آئے اسکی بات نہ مانے یا سختی کرے اور ایسی جماعت جو نکلی ہے دنیا کو نصیحت کرنے کے لئے اور ان کی اصلاح کے لئے وہ مقابل پر پی پخش کلامی شروع کر دے تو اس کا تو سارا اثر باطل ہو جائے گا اس لئے جماعت احمد یہ میں خواہ کتنی ہی بدکلامی ان کے مخالف کی جائے جواب میں بدکلامی نہیں ہونی چاہئے ۔ اگر چہ بعض مواقع پر قرآن کریم اجازت دیتا ہے اسکی اور اصلاح کی خاطر اور بعض حقائق کو دلوں میں اتارنے کے لئے لیکن اس کے لئے اللہ تعالیٰ کے وہ بندے جو مامور ہوں وہ خاص مصالح کے پیش نظر سختی کرتے ہیں ۔ جیسا کہ ایک مجلس میں سوال کیا گیا تھا کہ قرآن کریم میں جو آتا ہے عُتُلٍ بَعْدَ ذَلِكَ زَنِيمٍ ( اعلم (۱۴) کہ وہ جھوٹا بد کردار بلکہ حرام زادہ ہے جو مخالف ہے۔ اتنے شدید اور اتنے سخت الفاظ قرآن کریم میں اور دوسری طرف قرآن کریم فرماتا ہے کہ گالی نہ دو۔ تو یہ مراد ہرگز نہیں کہ مسلمانوں کو قرآن کریم اجازت دے رہا ہے کہ تم اس قسم کے سخت لفظ لوگوں کے لئے استعمال کیا کرو ۔ مامور من اللہ کو اللہ کہہ