خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 222
خطبات طاہر جلد ۳ 222 خطبه جمعه ۲۰ ر اپریل ۱۹۸۴ء اس ملک میں تو بد قسمتی سے ایسے بہت واقعات ہیں اور بکثرت جماعت کو نصیحت کرنی چاہئے اور اس نصیحت کے نتیجہ میں جماعت کے اپنے اخلاق کی حفاظت ہوگی کیونکہ جب وہ نصیحت کریں گے تو اپنے دل پر غور کریں گے اور شرمندہ ہوں گے اگر ان کے اندر کمزوریاں پائی جاتی ہیں، ان کو دور کرنے کی کوشش کریں گے اور اگر وہ نہ کریں گے تو نصیحت کرنے والے کو دوسروں کے طعنے مجبور کر دیا کرتے ہیں ٹھیک ہونے پر کیونکہ ایک اور فائدہ اسکو یہ ہے اندرونی نظام بھی اٹھ کھڑا ہوا ہے اور بیدار ہو گیا ہے اور جن کو نصیحت کی جاتی ہے وہ ادنی سا بھی داغ دیکھیں تو مقابل پر طعنہ دیتے ہیں اور وہ چر کا بعض دفعہ ایسا کام کر جاتا ہے کہ ضمیر کا چر کا جہاں نا کام ہو گیا ہے وہاں مخالف کا چھہ کا کام کر دیتا ہے۔تو کتنا عظیم الشان حفاظت کا نظام ہے جو قرآن اور حضرت محمد مصطفی ﷺ نے پیش کیا ہے جس سے قومی کردار کی حفاظت ہوتی ہے۔یہاں تو یہ حال ہے کہ بعض جگہ، میں ایک دورے پر گیا تھا تو وہاں پتا لگا کہ ایسے سکول ہیں جہاں استاد سارا مہینہ آتا ہی نہیں اور مہینے کے آخر پر تنخواہ لینے کے لئے رجسٹر پر دستخط کرنے کے لئے آتا ہے اور مانیٹر بنائے ہوئے ہیں بعض جو آگے بچوں کو پڑھاتے ہیں یا نہیں پڑھاتے اللہ بہتر جانتا ہے اور اس کثرت سے یہ واقعات ہو رہے ہیں کہ سارا معاشرہ دکھا ہوا ہے اس سے۔وہ بچے قوم کے کتنی عظیم الشان امانت ہیں ان اساتذہ کے پاس جنہوں نے مستقبل بنانا ہے قوم کا۔تو بظاہر ایک چھوٹا سا سکول ماسٹر ہے جو بعض لوگوں کی نظر میں کوئی حقیقت نہیں رکھتا لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ جب اس کے سپر د قوم کے بچے ہو گئے تو اسی نسبت سے اس استاد کو عظمت نصیب ہوتی ہے۔اگر وہ امانت کا حق ادا کرے تو اسی نسبت سے خدا کی نظر میں وہ عظمت پاتا ہے اور اگر امانت کا حق ادا نہ کرے تو خدا کی نظروں میں بھی ذلیل ہوگا اور قوم کی نظر میں بھی مجرم ہوگا اور ایک قومی خود کشی کے مترادف ہوگی یہ بات کہ ایسے لوگوں کو سمجھایا نہ جائے اور روکا نہ جائے نیک نصیحت کے ذریعہ۔پس جماعت احمدیہ میں منافقت کی کوئی بھی خصلت نہیں ہونی چاہئے۔بہت بڑا کام ہے ساری دنیا کی اصلاح کرنے کا کوئی معمولی کام تو نہیں ہے۔اگر ہم منافقت کا شکار ہو جائیں گے تو پھر باقی کیا رہے گا؟ یہ تو ویسی ہی بات ہوگی جیسے ایک دفعہ حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ جارہے تھے، بارش ہو رہی تھی، کیچڑ تھا تو آپ نے دیکھا کہ ایک بچہ بڑی تیزی سے دوڑ رہا ہے تو حضرت امام ابوحنیفہ نے اسکو کہا بیٹے ! ذرا آہستہ پھسل نہ جانا۔وہ بڑا ذہین بچہ تھا فورا مڑا اور اس نے کہا امام