خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 221 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 221

خطبات طاہر جلد ۳ 221 خطبه جمعه ۲۰ را پریل ۱۹۸۴ء صلى الله عروسة ۔ مذہبی اصطلاح ہے جس کا قرآن کریم میں ذکر ہے اور امانت سے اول مراد شریعت محمد مصطفیٰ علی ہے قرآن کی اصطلاح میں۔ چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے: إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ فَأَبَيْنَ أَنْ يَحْمِلْنَهَا وَأَشْفَقْنَ مِنْهَا وَحَمَلَهَا الْإِنْسَانُ (الاحزاب : ۷۳) کہ دیکھو ہم نے جب امانت سپرد کرنا چاہی آسمانوں نے بھی انکار کر دیا اور پہاڑوں نے بھی اور زمین نے بھی انکار کر دیا اور خوف زدہ ہو گئے یہ سارے تب وہ انسان کامل سامنے آیا جس کا نام محمد مصطفیٰ علی ہے۔ تو امانت تو ایک بہت وسیع مضمون ہے اور پہلی منافقت کی نشانی یہ ہے کہ قومی امانتیں جب سپرد ہوں تو ان میں کوئی خیانت کرے اور اس ملک میں بہت سے ایسے واقعات ہیں کہ قومی امانتیں ہیں مختلف سطح کی اور نصیحت کا فرض کا فرض ہے جماعت احمدیہ کا ۔ اگر وہ ا کا ۔ اگر وہ ایمان لانے والوں میں شامل ہے تو ان کا فرض ہے کہ وہ نصیحت کریں اور خود قومی امانت میں کبھی خیانت نہ کریں۔ جب کسی کے سپر دکوئی کام کیا جاتا ہے وہ کسی شعبے سے تعلق رکھنے والا کام ہو ، پولیس کا افسر ہو یا واپڈا میں ملازم ہو یا کسی اور جگہ حکومت کے کارندے کے طور پر کام کر رہا ہو یا کمپنیوں میں پرائیویٹ ملازم ہو تو اس حد تک وہ اس کی امانت کا دائرہ بن جاتا ہے جس حد تک وہ کام اس کے سپرد ہے اور اس حد تک وہ امانت بنتی ہے جس حد تک شریعت محمد مصطفیٰ یا اس سے اس بارہ میں کچھ توقع رکھ رہی ہے۔ ہر دائرہ کی توقعات الگ الگ ہوں گی لیکن کوئی بھی دائرہ ایسا نہیں ہوگا جہاں آنحضرت ﷺ کی وسیع امانت کچھ نہ کچھ دخل نہ رکھتی ہو دخل نہ رکھتی ہو۔ بعض معاملات میں وہ امانت آپ ۔ مانت آپ سے تقاضا ناضا کرے گی کہ اگر تم صلى الله عروسة ۔ محمد مصطفی ﷺ کے امین ہو جو خدا تعالیٰ کے امین تھے اور تم اس و صلى الله - عروسه اس واسطہ سے خدا کے امین بن جاتے ہو تو ان دائروں میں اپنی امانتوں کی حفاظت کرو۔ شریعت جو تم سے تقاضے کرتی ہے ان کو پورا کرو۔ تو جس شخص میں اس حد تک خیانت پیدا ہو جائے جو اس کے دائرہ سے تعلق رکھتی ہے خواہ روپیہ پیسہ رکھوایا گیا ہو یا نہ رکھوایا گیا ہو ، سامان سپرد کیا گیا ہو یا نہ کیا گیا ہو، خواہ ایک استاد کے سپرد بچے کئے گئے ہوں وہ بھی پوچھا جائے گا خدا کے حضور کہ تم نے اس امانت کا حق کیوں ادا نہیں کیا اور اگر وہ نہیں کرے گا تو آنحضور ﷺ فرماتے ہیں کہ اس حد تک وہ منافق بن جائے گا۔ منافقت کا داغ اس کے دل پر لگ جائے گا اور دل کا چوتھا حصہ اسکا غائب ہو گیا ، اس بد سایہ کے نیچے آگیا۔ صلى الله ایک