خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 218
خطبات طاہر جلد ۳ 218 خطبه جمعه ۲۰ ر اپریل ۱۹۸۴ء سے ہلاک ہو گئیں کہ انہوں نے نیک باتیں کہنا چھوڑ دیا تھا اور بد باتوں سے روکنا چھوڑ دیا تھا۔اس کا دوسرا اثر جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا تھا تو موں کے اندرونی حالات سے بھی ہوتا ہے۔وہ لوگ جو دوسروں کو نصیحت کرتے ہیں اس کا ایک رد عمل ان کی ذات پر ظاہر ہوتا ہے اور یہ ہو نہیں سکتا کہ کوئی انسان اللہ پر ایمان لانے والا ہو یہ شرط خدا نے ساتھ رکھ دی ہے اور جانتا ہو کہ خدا میرے ظاہر کو بھی دیکھ رہا ہے اور میرے باطن کو بھی دیکھ رہا ہے اور پھر ایسی نصیحتیں کرے کہ خودان پر عمل نہ کرتا ہو اور نصیحت کرتے وقت اس کے چر کا نہ لگے ، نصیحت کرتے وقت اس کا ضمیر اسے کاٹے نہ یہ ہو نہیں سکتا۔ایک دہریہ کے لئے تو ممکن ہے لیکن خدا کو ماننے والا جو اللہ تعالیٰ کی ذات پر یقین رکھتا ہو اور جانتا ہو کہ وہ علِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ہے اس سے یہ ہو نہیں سکتا کہ وہ نصیحت کرے اور اندرونی کمزوری کی طرف متوجہ نہ ہو اس لئے قوموں کی اندرونی اصلاح کے لئے اور اندرونی بقا کے لئے بھی بہت ضروری ہے، وہ لوگ جو نصیحتوں سے رک جایا کرتے ہیں ان کے رکنے میں بھی بسا اوقات یہ وجہ شامل ہوتی ہے کہ وہ بدیاں کرنا چاہتے ہیں، بعض معاشرتی برائیوں میں مبتلا ہونا چاہتے ہیں اور جانتے ہیں کہ اگر ہم نے روکا لوگوں کو تو اچانک ہم ان کے سامنے آجائیں گے اور پھر ان برائیوں میں خود ملوث نہیں ہوسکیں گے۔بیرونی ملکوں میں میں نے مشاہدہ کیا کہ بعض احمدی اس لئے نظام جماعت سے الگ ہو کر خاموش ہوئے کہ وہ بعض بدیاں کرنی چاہتے تھے اور اس لئے وہ غیروں کو نصیحت نہیں کرتے تھے کہ جانتے تھے کہ ہمارے اندر یہ کمزوریاں ہیں بلکہ بالا رادہ کرنا چاہتے تو چونکہ بدی کے آخری مقام پر نہیں تھے پہلا قدم اٹھ رہا تھا اس لئے منافقت کرنے کی ان میں جرات نہیں تھی یعنی اس میں ایک نیکی بھی شامل تھی، یہ قدم اٹھانا چاہتے تھے لیکن بیک وقت اپنے نفس کے چرکوں سے بچنا چاہتے تھے اس لئے انہوں نے یہ طریق اختیار کیا کہ خاموش ہو گئے اور بہت سی جگہ آپ یہ مشاہدہ کرینگے کہ ایسا واقعہ ہوتا چلا جا رہا ہے ہماری سوسائٹیوں میں اور جو نیک نصیحت کرتا ہے اگر اس کے اندر کمزوریاں ہیں بھی تو وہ رفتہ رفتہ دور ہونے لگتی ہیں کیونکہ نیک نصیحت کے نتیجہ میں ایک اندرونی نظام دل کی طرف سے حملوں کا نظام شروع ہو جاتا ہے اور امر واقعہ یہ ہے کہ بیرونی نصیحت سے بہت زیادہ یہ اندرونی نصیحت کا نظام کارگر ہوا کرتا ہے اور یہ جدو جہد ضمیر کو زندہ رکھتی ہے۔جن قوموں کا ضمیر نہ مرے ان کے متعلق زندگی کی ضمانت دی جاسکتی ہے، جن کا ضمیر مرجائے ان کے لئے زندگی کی کوئی ضمانت نہیں۔