خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 214
خطبات طاہر جلد ۳ 214 خطبه جمعه ۱۳ را بپریل ۱۹۸۴ء سکے۔یقیناً ایسا ہی ہوگا نا دان چند دن کی زندگی میں چند اور دن یہ دیکھیں گے کہ ہم بظاہر فتح یاب ہور ہے ہیں۔چند دن کی زندگی میں تھوڑا عرصہ ان کو یہ نظر آئے گا کہ گویا ہم نے نقصان پہنچا دیا لیکن تاریخ احمدیت بتارہی ہے کہ ہر ایسے مصیبتوں کے سائے سے گزرنے کے بعد جماعت پر اللہ کا نور زیادہ شان کے ساتھ نازل ہوا ہے۔ہر ایسے خطرات کے دور میں سے گزرنے کے بعد زیادہ قوی ہو کر جماعت گزری ہے اس لئے ہماری تاریخ گواہ، ہمارا قرآں گواہ، ہمارا خدا ہمیں بشارتیں دے رہا ہے اور وہ کبھی اپنی بشارتوں کو جھوٹا نہیں ہونے دے گا۔لازماً ہم جیتیں گے اللہ کے فضل کے ساتھ کیونکہ خدا کی خاطر ہم ہی ہیں جود کھ اٹھانے والے ہیں اور کوئی نہیں ہے جو خدا کی خاطر آج دنیا میں دکھ اٹھا رہا ہو۔خطبہ ثانیہ کے دوران حضور نے فرمایا: ابھی جمعہ کی نماز کے بعد عبد الحمید شہید کی نماز جنازہ غائبانہ ہوگی اور اس میں ان کے لئے جو دعا ہے مغفرت کی جو بھی مسنون دعائیں ہیں وہ تو ہم کریں گے اس کے علاوہ ان کے جو بھائی احمدی نہیں ہیں ان کے لئے بھی دعا کی جائے کیونکہ خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے جب ایک لیتا ہے تو زیادہ دے دیتا ہے اور اس رنگ میں ان کا خاندان زیادہ مستحق ہے اس انعام کا۔کیونکہ بڑی قربانی کر کے اپنے خاندان میں سے یہ الگ ہو کر آئے تھے اس لئے جو بھائی یا جو رشتہ دار ابھی تک احمدیت کا فیض نہیں پاسکے یہ بھی دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کو توفیق عطا فرمائے اور ایک کی بجائے دسوں نہیں بلکہ سینکڑوں اور ہمیں نصیب ہوں۔یہ جو نماز جنازہ ہے اس میں یہ بات یاد رکھیں صرف مرنے والوں کے لئے دعا نہیں کی جاتی بلکہ زندوں کے لئے پہلے دعا بتائی گی ہے اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيْنَا وَ مَيِّتِنَا اس میں زندوں کے لئے پہلے دعا مانگی گئی ہے اس لئے اگر کسی کے دماغ میں یہ غلط نہی ہو کہ یہ تو مرنے والوں کے لئے دعا کی جاتی ہے ہم زندوں کے لئے کیوں کریں تو میں یہ غلط فہمی دور کر دیتا ہوں آنحضرت ﷺ نے جو طریق سکھایا ہے نماز جنازہ کا اس میں زندوں کو پہلے پیش نظر رکھا جاتا ہے پھر مرنے والے کے لئے دعا کی جاتی ہے۔بہر حال اب نماز جنازہ غائب ہوگی اس میں مرحوم کے لئے بھی دعا کریں اور ان کے رشتہ داروں کے لئے بھی اور اس قوم کے لئے بھی جس سے یہ تعلق رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ بکثرت ان میں احمدیت کو پھیلا دے۔آمین۔