خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 205 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 205

خطبات طاہر جلد۳ 205 خطبه جمعه ۱۳ / اپریل ۱۹۸۴ء کے حالات آنے والے ہیں، خطرات تمہارے سر پر منڈلا ئیں گے تمہارے بے وجہ بغیر اس کے کہ تم نے کسی کا قصور کیا ہو مال لوٹے جائیں گے۔بے وجہ تمہاری جانیں تلف کی جائیں گی۔یہ سارا مضمون تو خوف کا مضمون ہے اور ڈرایا جا رہا ہے لیکن نتیجہ دیکھیں یہ آیت کیا نکالتی ہے فرماتا ہے وَبَشِّرِ الصبرین کہ ہم ڈرانے کی خاطر نہیں کہہ رہے تمہیں یہ خوش خبریاں دے رہے ہیں۔کیونکہ وہ مومن جس کا مال خدا کی خاطر لوٹا جاتا ہے اللہ اس کے مال میں بہت زیادہ برکت دیتا ہے لیکن وہ دنیا دار جس کا دنیا میں مال لوٹا جاتا ہے اس کا کوئی ضامن نہیں ہے وہ مومن جس کی جان خدا کی راہ میں تلف کی جاتی ہے اللہ اس کی جان میں برکت دیتا ہے اور وہ جان دینے والا جو ہیضہ سے مرجاتا ہے یا ایکسیڈنٹ سے مرجاتا ہے یا بھڑ کاٹنے سے مرجاتا ہے یا سوتے سوتے جان دے دیتا ہے اس کے لئے کوئی ضمانت نہیں۔وہ ایک قانونِ قدرت کا شکار ہے تو ساتھ ہی کہہ کر یہ بھی فرما دیا کہ یہ آزمائشیں دنیا والوں کی آزمائشوں سے بہت کم ہیں یہ بھی تمہارے لئے خوشخبری ہے اور ان آزمائشوں میں اگر تم ثابت قدم رہو گے تو تمہارے لئے بے انتہا اجر ہے جب کہ دنیا والوں کے لئے کوئی اجر نہیں اس لئے وَبَشِّرِ الصَّبِرِینَ فرمایا لیکن صابرین میں ایک ایسی مومن کی خاصیت بیان کردی کہ جس کے ساتھ بشارت کو وابستہ فرما دیا ہے یعنی ہر مومن جو ان مصائب میں سے گزرے گا ان تکالیف کو برداشت کرے گا اس کے لئے بشارت نہیں دی وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ نہیں فرمایا وَ بَشِّرِ الصَّبِرِینَ ان لوگوں کے لئے بشارت ہے جو صبر کرتے ہیں۔صبر کا کیا معنی ہے؟ اس کا ایک معنی تو عام ہے یعنی یہ کہ جب کوئی تکلیف پہنچے تو واویلا نہ کرے، بے وجہ نوحہ کناں نہ ہو جائے ، پیٹنا نہ شروع کر دے ، شکوے نہ شروع کر دے اس حالت کو صبر کہتے ہیں خاموشی سے اپنے دکھ کر برداشت کرے اور اپنے دل پر لے لے۔اور صبر کا ایک معنی ہے جو آنحضرت ﷺ نے بیان فرمایا کہ اس نیکی کو پکڑ کر بیٹھ جائے جس نیکی کو اس سے چھینے کی کوشش کی جاتی ہے اور کسی حالت میں بھی اپنی نیکی کی حالت کو ہاتھ سے جانے نہ دے ان معنوں میں صبر بہت ہی وسیع ہو جاتا ہے۔مراد یہ ہے کہ خدا کی خاطر جب تم دنیا میں ایک جہاد شروع کرتے ہو جس کے ساتھ دنیا کی بقا وابستہ ہوتی ہے، جس کے ساتھ دنیا کا امن وابستہ ہوتا ہے تو اس کے مقابل پر دنیا تم سے ایک مجادلہ شروع کر دیتی ہے اور ناحق تم پر مظالم شروع کر دیتی ہے اور کوشش کرتی ہے کہ تمہارے