خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 195
خطبات طاہر جلد ۳ 195 خطبه جمعه ۶ را بریل ۱۹۸۴ء کئے ہیں جن سے جانیں ہلاک ہو جایا کرتی ہیں مگر آج ان باتوں کا دن نہیں کہ ان چیزوں کو گنا جائے آج تو یہ دن ہے کہ ثَبِّتْ أَقْدَامَنَا ہمارے قدموں کو ثبات بخش ، ایسی قوت عطا فرما کہ یہ پیچھے ہٹنے کا نام نہ جانیں۔وَ انصُرْنَا اور ہمیں غلبہ عطا فرما عَلَى الْقَوْمِ الْكَفِرِينَ ان لوگوں پر جو تیرے پیغام کے منکر ہیں۔پھر یہ دعا کریں اَللَّهُمَّ إِنَّا نَجْعَلُكَ فِي نُخُورِهِمْ وَ نُعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُوْرِهِمْ۔اے ہمارے خدا! اے ہمارے رب ! اے اللہ! إِنَّا نَجْعَلُكَ فِی نُحُورِهِمُ ان کے سینوں میں ہم کوئی رعب داخل نہیں کر سکتے لیکن تجھے ان کے سینوں میں رکھتے ہیں، تو ہر سینہ میں داخل ہونے کی طاقت رکھتا ہے، تو قوت اور شان اور ہیبت کے ساتھ ان کے سینوں میں اتر اور وہی کرنے پر مجبور کر جو تو چاہتا ہے۔وَنُعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِمُ اور ان کے سینوں سے جو ارادے بداعمال بن کر پھوٹیں گے اور شر بن کر ہم پر پڑنے والے ہیں ان شرور سے ہم تیری حفاظت میں آتے ہیں یعنی شر کے مبداً پر بھی پکڑ لے ان کو اور شر جن پر پڑنے والا ہے اُن کے اور ان کے درمیان تو حائل ہو جا۔کیسی کامل دعا ہے یعنی شر پہلے سینوں سے پھوٹا کرتا ہے، وہ وہاں جنم لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں سکھایا کہ یہ دعا کیا کرو اللهم إنا نجعلک فی نُحورهم اے خدا ! وہاں سے پکڑ جہاں سے شر پھوٹ رہا ہے، جہاں جنم لے رہا ہے۔اگر ان سینوں میں تو داخل ہو گیا تو شر رحمت میں تبدیل ہو جائے گا۔شر کا باقی کچھ نہیں رہے گا اس لئے جن سینوں میں خدا داخل ہو جائے وہاں یہ توفیق ہی نہیں مل سکتی شر کو کہ وہاں سے نکلے اور دنیا میں فساد برپا کرے اور اگر کچھ بد بخت ایسے ہوں جن کے سینے تیرے لئے بند ہیں یعنی خدا ز بر دستی چاہے تو ہر سینے میں جاسکتا ہے لیکن اس نے بھی اپنا ایک قانون مقرر فرمایا ہوا ہے کہ بعض سینے جو بد بختی میں حد سے بڑھ جاتے ہیں ان میں خدا انہیں اترا کرتا تو ایسی صورت میں پھر ہمارے اور ان شروں کے درمیان حائل ہو جا جو سینوں سے پھوٹ کر پھر بداعمال میں تبدیل ہو جایا کرتے ہیں۔اور پھر یہ دعا کریں: رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ ذُهَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ (ال عمران : ٩) اے خُدا! ہم تجھ سے یہ دعا کرتے ہیں کہ غیروں کے سینوں میں اتر جا اور ان کی اصلاح فرما دے تو