خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 194
خطبات طاہر جلد ۳ 194 خطبه جمعه ۶ را بریل ۱۹۸۴ء بھی بحیثیت جماعت کے کبھی فنا نہیں آنی چاہئے بر حُمَتِكَ نَسْتَغِيت۔ہم تیری رحمت کے بھکاری ہیں۔ہم تیری رحمت کے حضور فریادی بن کر آئے ہیں۔نَسْتَغیث کا مطلب ہے فریاد کرتے ہیں تیری، دہائی دیتے ہیں اے خدا ! ہم تیری رحمت کے بھکاری اور فریادی بن کے حاضر ہو گئے تجھے تیری حفاظت کی یاد دلانے کے لئے ، تجھے تیری عزت کی یاد دلانے کے لئے اور تجھے تیری رفاقت کی یاد دلانے کے لئے۔پس اے جی وقیوم ! آ اور ہمارا ساتھی بن۔پھر ایک دعا بھی ہے جس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ یہ گویا کہ اسم اعظم ہے۔ایسی طاقت والی دعا ہے جو ہر صورت حال پر کام کرتی ہے۔یہ ہر مرض کی دوا ہے اور وہ دعا ہے: رَبِّ كُلُّ شَيْءٍ خَادِمُكَ رَبِّ فَاحْفَظْنِي وَانْصُرُنِي وَارْحَمُنِي اس کو اگر قومی طور پر کیا جائے تو رَبِّ فَاحْفَظْنَا وَانْصُرْنَا وَارْحَمْنَا بھی پڑھا جا سکتا ہے رَبِّ فاحفظنی کی بجائے رَبِّنَا فَاحْفَظْنَا وَانْصُرْنَا وَارْحَمْنَا کہ اے خدا! تو ہمارا رب ہے اور ہر چیز تیری خادم ہے، کوئی بھی کائنات میں ایسا وجود نہیں ہے جو تیرے قبضہ قدرت سے باہر ہو۔پس جب ہر چیز تیری خادم ہے تو ہم تجھ سے مدد مانگتے ہیں۔جس آقا کے ہم غلام ہیں ایسا کر کہ ہر وہ چیز جو اس آقا کی غلام ہے وہ ہماری غلام بنادی جائے ، ہماری خدمت پر مامور ہو جائے یعنی تیری کائنات کی ساری طاقتیں ہمارے لئے وقف ہو جائیں ہماری حفاظت کے لئے وقف ہو جائیں۔فَاحْفَظْنِی میری حفاظت فرما، وَانصُرُ نِی اور میری نصرت فرما، وارحمني اور مجھ پر رحم فرما۔رَبَّنَا اغْفِرْلَنَا ذُنُوبَنَا وَإِسْرَافَنَا فِي أَمْرِنَا (ال عمران: ۱۳۸) اے خدا! ہمارے گناہ بخش دے۔ایسا نہ ہو کہ ہماری مغفرت اور تیری نصرت کے درمیان ہمارے گناہ حائل ہو جائیں۔ایسا نہ ہو کہ ہم تیری نظر میں حق دار ہی نہ رہے ہوں اس حفاظت اور رفاقت کے جس کے ہم تجھ سے طلب گار ہیں۔رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا۔آج تو خطروں کے دن ہیں ، آج تو بخششوں کے دن ہیں، آج تو صرف نظر کے دن ہیں، جو کچھ ہو رہا ہے تیرے نام پر ہورہا ہے اور تیری وجہ سے ہو رہا ہے اس لئے آج ہمارے گناہوں سے بھول جا۔آج ہمارے گناہوں پر نظر کرنے کے دن نہیں ہیں۔وَ اِسْرَافَنَا فِی اَمْرِنَا ہم نے اپنی جانوں پر بہت زیادتیاں کی ہیں اور ایسے کام