خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 187 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 187

خطبات طاہر جلد ۳ 187 خطبه جمعه ۶ راپریل ۱۹۸۴ء جماعت کو دعاؤں کی تلقین (خطبه جمعه فرموده ۶ را پریل ۱۹۸۴ء بمقام مسجد اقصی ربوه) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت فرمائی: وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ قَالُوا إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ ) أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُونَ وَلَكِنْ لَّا يَشْعُرُونَ (البقره: ۱۲-۱۳) اور پھر فرمایا: مذہب کی تاریخ کے مطالعہ سے خصوصاً اس تاریخ مذہب کے مطالعہ سے جس کو قرآن کریم نے محفوظ فرمایا ہے یہ پتہ چلتا ہے کہ جب بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے کسی کو مامور کیا جاتا ہے اور بنی نوع انسان کی اصلاح کے لئے بھیجا جاتا ہے تو اس بات سے قطع نظر کہ وہ صاحب شریعت ہو یا بغیر شریعت کے آیا ہو ، آزاد نبی ہو یا کسی بلند تر بالا تر آقا کا غلام ہو ، لازماً دنیا اس وقت ایک ہی دعوے کو پیش کرتے ہوئے دو مختلف گروہوں میں بٹ جاتی ہے اور دونوں گروہ ایک ہی مقصد بیان کرتے ہیں، ایک ہی سمت کی طرف جانے کے دعویدار ہوتے ہیں لیکن رستے الگ الگ بیان کرتے ہیں اور چلنے کے طریق بھی مختلف بیان کرتے ہیں اور اس وقت دنیا بڑے شش و پنج میں مبتلا ہو جاتی ہے کہ ایک ہی نام سے اٹھنے والی دو آوازوں میں سے کس کی پیروی کریں؟ دونوں خدا ہی کی طرف بلاتے ہیں ، دونوں خدا ہی کے نام پر ایک تعلیم دیتے ہیں اور سننے والے ناسمجھ حیران و ششدر دونوں طرف