خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 180
خطبات طاہر جلد ۳ 180 خطبه جمعه ۳۰ / مارچ ۱۹۸۴ء تحریک کی ضرورت نہیں پیش آتی۔سال میں ایک خطبہ انجمن کے چندوں سے متعلق دیا جاتا ہے جماعت توقع سے آگے بڑھ کر خدا کے فضل سے قربانیاں کر رہی ہے لیکن ایک چندہ ایسا ہے جس میں ابھی تک پیچھے ہے اور وہ ہے صد سالہ جو بلی۔گزشتہ سال بھی میں نے توجہ دلائی تھی اس کے بعد اگر چہ پاکستان میں غیر معمولی طور پر چندے میں اضافہ ہوا ہے اور ایک سال میں چھپن لاکھ روپیہ وصول ہوا ہے صد سالہ جو بلی کا لیکن ابھی تک بیرونی جماعتیں بھی اور پاکستان بھی بہت پیچھے رہ گیا ہے وقت سے۔مختصر کوائف میں آپ کو بتاتا ہوں اس سے آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ کتنا چندہ ابھی قابل وصول پڑا ہوا ہے اور جو کام کرنے والے ہیں صد سالہ جو بلی کے ان کی فہرست اگر آپ کے سامنے بیان کی جائے تو کئی خطبے چاہئیں۔ناممکن ہے کہ ایک خطبہ میں ان کاموں کو بیان کیا جاسکے جوصدسالہ جو بلی نے 1989 ء سے پہلے پہلے مکمل کرنے ہیں۔ان کی تفاصیل جب آپ کے سامنے رکھی جائیں تو آپ حیران رہ جائیں گے کہ کتنا بڑا کام ہے، کتنا اس کا پھیلاؤ ہے اور اس کے لئے روپے کی فوری ضرورت ہے کیونکہ بہت سے کام ہیں، مختلف ممالک میں مشنز کا قیام، مختلف زبانوں میں قرآن کریم کی اشاعت مختلف زبانوں میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کے تراجم اور مساجد کا قیام۔ایسے ایسے نئے ممالک ہیں جہاں ایک بھی احمدی اس وقت نہیں ہے وہاں نئی جماعت کو قائم کرنا، آدمی مہیا کرنا ، اخراجات تو اس وقت سے شروع ہو چکے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ اب ہمارا پیٹ بھرو اور جو چندہ کی رفتار ہے وہ مقابلہ سست ہے۔اس کی ایک وجہ تو یہ ہو سکتی ہے کہ باقی انجمنیں وصولی کا ایک باقاعدہ نظام رکھتی ہیں ان کے انسپکٹرز بھی ہیں، ان کے بڑے بڑے دفاتر ہیں یاد دہانیوں کے۔اور جماعت احمد یہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے قربانی میں پیچھے نہیں رہتی ، یاددہانی اور تذکیر ضروری ہے جیسا کہ قرآن کریم فرماتا ہے ہر انسان کا ایک معیار نہیں ہوتا اکثر انسان یاددہانی کے محتاج ہوتے ہیں تو صد سالہ جو بلی اپنے یاد دہانی کے نظام کو اتنا پھیل سکتی نہیں ہے کیونکہ عارضی کام ہے نسبتااور اگر اتنابڑا سٹاف رکھا جائے تو بہت بڑا خرچ بڑھ جائے گا اس لئے عمومی نصیحت کے سوا اور چارہ نہیں ہے ہمارے پاس۔تو میں نے سوچا کہ چونکہ صد سالہ جو بلی کا دفتر محدود ہے کام کے مقابل پر اس لئے میں جماعت کو یاد دہانی کروادوں۔کل وعدہ جو پاکستان کا تھا وہ پانچ کروڑ چار لاکھ اناسی ہزار روپے (5,04,79000) کا