خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 178
خطبات طاہر جلد ۳ 178 خطبه جمعه ۳۰ / مارچ ۱۹۸۴ء تو میں نے صرف چند باتیں آپ کے سامنے رکھی ہیں ) تو انہوں نے کہا کہ یہ اتنا کام ہے کہ اس کے لئے تو کمپیوٹر کی ضرورت پڑ جائے گی فوری۔یعنی کمپیوٹر کی ضرورت اس وقت پڑتی ہے جب آدمیوں کے بس سے بات نکل جاتی ہے تو ابھی تو انہیں سٹاف چاہئے ، پہلے کچھ سٹاف مہیا ہو۔کام اپنے کسی نج پر چند قدم چل پڑے پھر انشاء اللہ تعالیٰ اللہ تعالیٰ فضل فرمائے گا تو کمپیوٹر بھی مہیا کرنے پڑیں گے جماعت کو۔تو یہ چند مثالیں میں نے دی ہیں اس سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ واقفین کی کتنی شدید ضرورت ہے جماعت احمدیہ کو اور وقت کے تقاضے ہیں کہ یہ ضرورت لازماً پوری کی جائے کیونکہ جب خدا تعالی کی طرف سے فضلوں کی ہوا چلتی ہے ، ایک موسم آجاتا ہے نشو ونما کا وہی وقت ہوتا ہے کام کا، اگر ہم پیچھے رہ جائیں گے تو اس موسم کے پھلوں سے محروم رہ جائیں گے، اتنا فائدہ نہیں اٹھاسکیں گے جتنا یہ ابر بہار ہمارے لئے فوائد لے کر آیا ہے۔اس کثرت سے قوموں میں توجہ پیدا ہو رہی ہے جماعت احمدیہ کی طرف کہ ہر روز نئی نئی خبریں ایسی آتی ہیں جس سے دل کھل اٹھتا ہے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اور ساتھ ہی پھر وہ ذمہ داریوں کا بوجھ بھی آپڑتا ہے، پھر انسان فکر مند بھی ہو جاتا ہے، پھر دعا کی بھی توفیق ملتی ہے اور نئے نئے خدمت کرنے والے بھی اپنے آپ کو پیش کرتے چلے جارہے ہیں تو ایک عجیب دنیا ہے یہ جماعت احمدیہ کی جس کی کہیں اور کوئی مثال نہیں ہے۔یہ ساری دنیا میں ایک الگ دنیا ہے۔حیرت انگیز خدا تعالیٰ کے فضلوں کی بارش ہورہی ہے اور جہاں سے کوئی توقع نہیں ہوتی وہاں سے اطلاع آجاتی ہے کہ یہاں ایک نیا میدان کھل گیا ہے اسلام کی خدمت کا۔مثلاً کوریا گیا ہمارا وفد آنریری ورکرز کا رضا کاروں کا گیا اور ان کی طرف سے جو رپورٹ آئی ہے وہ اتنا ( Excite) کرنے والی ہے اتنا ہیجان پیدا کرنے والی ہے، وہ کہتے ہیں کہ پورا میدان کھلا پڑا ہے اور اس قدر شوق سے لوگوں نے ہم سے مطالبے کئے ہیں، کتابیں خریدیں ہیں، لائیبر بیریاں مطالبے کر رہی ہیں، پروفیسر زمطالبے کر رہے ہیں کہ ہمیں سکھاؤ اسلام اور جماعت احمد یہ جو اسلام سکھاتی ہے اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے علم کلام کی برکت سے وہ تو ذہنوں کو بھی روشن کر دیتا ہے، دلوں کو بھی مطمئن کرتا ہے اور اس زمانہ کے انسان کے مزاج کے مطابق ہے وہ کیونکہ محض دعاوی سے آج انسان نہیں مان سکتا جب تک فلسفہ بھی اتنا مضبوط نہ ہو، قوی نہ ہواور اتنا پر اثر نہ ہو کہ ذہن اور دل دونوں کو