خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 177 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 177

خطبات طاہر جلد۳ 177 خطبه جمعه ۳۰ / مارچ ۱۹۸۴ء نہیں ہوسکتا۔تو ایسے ٹائپسٹ جو ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچ چکے ہوں یا ایسے سپرنٹنڈنٹ جو دفتری کاموں کا تجربہ رکھتے ہوں ، اکا ؤنٹنٹس جنہوں نے ایک وقت تک دنیا اتنی کمالی ہو کہ وہ سمجھتے ہوں کہ باقی وقت ہم اپنے آپ کو خدا کے لئے وقف کر سکتے ہیں خالصتہ تو یہ سارے نام آگے آنے چاہئیں۔باہر کے ممالک میں تعمیری کام بھی ہورہے ہیں۔غانا میں مثلاً ایک اوورسٹئیر نے وقف کیا تھا اور خدا کے فضل سے بہت اچھا کام کر رہے ہیں وہاں جا کے اسی طرح اور ممالک میں ہیں ان کو سمیٹنا اور یکجا کرنا۔پھر لائیبریریوں کا قیام ہے مختلف ممالک میں اس طرف بھی ہم ابھی تک پوری توجہ نہیں دے سکے۔منصوبہ یہ تھا کہ ساری دنیا میں ایک ایسی لائبریری ہرمشن میں موجود ہو جس میں دنیا کی ہر زبان میں جماعت احمدیہ کا تبلیغی لٹریچر موجود ہو اور اسلام کے اوپر وارد ہونے والے مختلف مذاہب کے اعتراضات کے جوابات موجود ہوں اور پھر انڈیکس موجود ہو جس سے وہ فورا معلوم کر سکے کہ کس مضمون کو کس زبان میں میں کہاں سے حاصل کر سکتا ہوں۔چنانچہ ہر ملک کا مشن ساری دنیا کا مشن بن جائے گا اور اگر کوئی جاپانی افریقہ کے کسی ملک میں جاتا ہے تو مبلغ کے لئے کسی قسم کی ہچکچاہٹ کی ضرورت نہیں ہوگی وہ فوراً اس کو جاپانی لٹریچر نکال کے دے سکتا ہے ، کوئی ترک چلا جاتا ہے، کوئی یوگو سلاویہ چلا جاتا ہے تو ہر ایک لئے اس کی زبان میں لٹریچر بھی ہونا چاہئے ، کیسٹس (Cassettes) ہونے چاہئیں، وڈیو ریکارڈنگز بھی ہونی چاہئیں تا کہ اگر کوئی آرام سے بیٹھ کر دیکھنا چاہے مقرر کو اس کی آواز بھی سنے ، اس کو دیکھے بھی تو وڈیو چلا دیا جائے اور وہ تسلی سے بیٹھ کر جس مضمون میں چاہے کسی مقرر کو بولتا سے بھی اور دیکھ بھی لے۔آج کل اس کا رحجان بڑھ رہا ہے۔پھر یورپین ایسے ممالک ہیں جن کی الگ الگ چھوٹی چھوٹی زبانیں ہیں لیکن بہت اہم ہیں وہ ممالک اسلام کے لئے ، فن لینڈ ہے چیکوسلواکیہ ہے، ان زبانوں میں آغاز ہی نہیں ہوا کام کا ، ان سب کو مرتب کرنے کے لئے ایک پوری وکالت کی ضرورت ہے۔اب ہمیں ایک اچھا واقف زندگی مل گیا ہے بڑے تجربہ کار لائبریرین ہیں جو اس فن کے بہت ماہر ہیں۔قاضی حبیب الدین صاحب لکھنوی نے بڑے شوق اور اخلاص کے ساتھ وقف کیا ہے اور اپنے آپ کو پیش کر دیا ہے اور ان کے سپر د میں نے یہ کام کیا ہے لیکن جب کام انہیں سمجھایا ( یہ