خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 176 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 176

خطبات طاہر جلد۳ 176 خطبه جمعه ۳۰ / مارچ ۱۹۸۴ء بوجھ اٹھانے پڑیں گے اور کئی ذمہ داریاں ہیں اس لئے معمولی گزارہ جو خوشی سے جماعت دے سکتی ہے اس پر میں راضی ہوں تو ایسے واقفین بھی ان میں سے ہیں جن کے ساتھ ہم یہ معاملہ طے کر لیتے ہیں اور افہام و تفہیم کے ذریعہ اچھی طرح گزارہ چل جاتا ہے۔تو بہر حال بہت وسیع پیمانے پر اب ہمیں ایسے فن کاروں کی ضرورت ہے جو کسی نہ کسی فن میں تجربہ رکھتے ہوں اور اپنے نام پیش کریں۔جہاں تک تحریک جدید کا تعلق ہے، تحریک جدید میں کئی وکالتوں کا اضافہ ہو چکا ہے۔ایک وکیل التصنیف ایڈیشنل بنایا گیا ہے، وکالت مال ثالث نئی وکالت قائم ہوئی ہے، وکالت صدسالہ جوبلی ، وکالت اشاعت سمعی و بصری، شعبہ شماریات بھی تحریک جدید کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اس کے ساتھ ایک اور شعبہ "مخزن تصاویر ہے جو ساری دنیا میں مختلف وقتوں میں جو جماعت نے جو خدمات کی ہیں ان کو تصویری زبان میں اکٹھا کرنے کا کام کرے گا اور بہت سی تصویر میں ہیں جواب مل سکیں گی بعد میں ضائع ہو جائیں گی پھر ہاتھ ہی نہیں آسکیں گی مثلاً ہمارے واقفین نے افریقہ میں جو ابتدائی خدمات کیں، کن جھونپڑیوں میں وہ ٹھہرے، کس قسم کے واقفین انہیں کام کرنے والے ابتدا میں میتر آئے۔کچھ نہ کچھ تصویریں اس وقت موجود ہیں جو ا کٹھی ہوسکتی ہیں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ تصویریں غائب ہوتی چلی جاتی ہیں۔پھر نئے کام جو پھیل رہے ہیں ان سب کو تصویری زبان میں ڈھالنا یہ بھی ایک بہت بڑا کام ہے۔پھر ہمیں بیرونی ممالک میں ٹائپسٹس کی ضرورت ہے، اکاونٹنٹس کی ضرورت ہے، دفتری امور چلانے والے تجربہ کار آدمیوں کی ضرورت ہے۔اس وقت یہ ہورہا ہے کہ واقفین زندگی جو جامعہ کے فارغ التحصیل ہیں، باقاعدہ مبلغین ان پر انتظامی بوجھ بہت ہیں اور ان کو خط و کتابت ٹائپ بھی خود کرنی پڑتی ہے پھر ان کو اکاؤنٹس بھی رکھنے پڑتے ہیں، رجسٹر سنبھالنے پڑتے ہیں۔یہ اتنا زیادہ بوجھ ہے کہ بعض جگہ تو کچھ رضا کار ان کومل گئے ہیں مگر اکثر جگہ ان کے لئے تبلیغ میں یہ بوجھ حارج ہو رہا ہے۔بجائے اس کے کہ وہ خالصتہ الگ ہو کر فارغ الذہن ہو کر تبلیغی کاموں میں اپنی قوتوں کو صرف کریں ، نئے نئے منصوبے بنا ئیں ، عمومی نگرانی کریں، ہر احمدی کو جو داعی الی اللہ بنانے کا کام ہے اس کی طرف توجہ دیں، تصنیف کی طرف پہلے سے بڑھ کر توجہ دیں، یہ سارے کام ہیں مگر ان کا بہت سا وقت ضائع ہو جاتا ہے ان دفتری کاموں میں جو لازمی حصہ ہیں یعنی ان کے بغیر گزارہ بھی