خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 168
خطبات طاہر جلد ۳ 168 خطبه جمعه ۲۳ / مارچ ۱۹۸۴ء بڑی اعلی ذات ہے۔دل کی نرمی اس کے لئے فائدہ میں جارہی ہے یعنی مقابلہ ہورہا ہے بیچ میں ایک، توازن بگڑ گیا اور پاگل پن بن گیا یہ۔اچھی دل کی نرمی ہے کہ اپنے محبوب کے دشمن کے حق میں ہو جاؤ اور محبوب کے خلاف نتیجہ نکالو۔تو یہ رشد ہے یعنی حلم جو جذبات میں توازن بھی پیدا کرتا ہے اور حسن پیدا کرتا ہے اور صرف یہی جذبات نہیں جیسا کہ میں پہلے ذکر کر چکا ہوں غصہ کے جذبات نرمی کے جذبات، کسی قسم کے جذبات ہوں ان سب پر جب تک حلم حاوی نہ ہو اس وقت تک ان میں کوئی حسن پیدا نہیں ہوتا۔آگے اور بعض آیات تھیں مگر وقت زیادہ ہو رہا ہے اس لئے انکو چھوڑ دیتا ہوں اب میں چند حدیثیں اس مضمون پر سناتا ہوں۔آنحضور ﷺ نے جو بہادری کی تعریف فرمائی ہے اس میں بھی حلم داخل ہے۔صلى الله حضور اکرم ﷺ فرماتے ہیں: لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ إِنَّمَا الشَّدِيدُ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَه عِندَ الغَضَبِ ( صحیح بخاری کتاب الادب باب الغضب والكبر ) کہ بہادر وہ نہیں ہے جولوگوں کو پچھاڑ دے بہادر وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے نفس پر قابورکھے۔تو حلم کا ایک یہ بھی معنی ہے جیسا کہ قرآن کریم کی آیت سے پتہ چلا جذبات سے مغلوب نہ ہو اور سب سے زیادہ مغلوب کرنے والا جذ بہ غصہ ہوا کرتا ہے۔تو حلم کے اندر ایک بہادری بھی پائی جاتی ہے یعنی اعلی قسم کا بہادر وہ ہوگا جو بہت بڑا حلیم ہوگا۔چھوٹی چھوٹی باتیں اسکو غصہ نہ دلائیں بلکہ جب غصہ کی آزمائش میں مبتلا ہو پھر بھی وہ رک جائے اور غور کے بعد تحمل کے ساتھ فیصلہ کرے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: مومن میں شتاب کاری نہیں ہوتی بلکہ وہ نہایت ہوشیاری اور تحمل کے ساتھ نصرت دین کے لئے تیار رہتا ہے اور بزدل نہیں ہوتا“۔ایک چھوٹے سے جملے میں حلم کے اتنے پہلو بیان فرما گئے ہیں حضرت مسیح موعود کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ایک ہی فقرہ ہے اور پوری تقریر ہو گئی ہے علم کے اوپر۔اور انسان جو داعی الی اللہ ہو اس کو حلم کی کیوں ضروت در پیش ہے اسکے اوپر روشنی ڈال دی آپ نے۔فرماتے ہیں مومن میں شتاب کاری نہیں ہوتی یعنی حلم حوصلہ دیتا ہے فوری طور پر انسان قدم نہیں اٹھاتا جاہلوں کی طرح کہ