خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 159
خطبات طاہر جلد ۳ بیان کر رہی ہیں سب چیزیں؟ 159 خطبه جمعه ۲۳ / مارچ ۱۹۸۴ء اس کے دو پہلو ہیں، اول تو یہ کہ انسان شروع میں جب خدا تعالیٰ کی کائنات کو سمجھنے کی تہ کوشش کر رہا تھا تو اس کو یہ تو احساس تھا کہ جانوروں میں کسی قسم کا شعور ہے لیکن جانوروں سے آگے وہ کسی شعور کا قائل نہیں تھا اور نبی اور حم کا ایک قسم کے شعور سے بھی تعلق ہے۔اس پہلو سے جب ہم غور کرتے ہیں تو ایک زمانہ انسان پر ایسا آیا بلکہ اس سے پہلے زمانہ میں جائیں تو یہ کہنا چاہئے کہ ایک زمانہ انسان پر ایسا آیا کہ جب وہ سوائے انسان کے کسی کو باشعور نہیں سمجھتا تھا۔جانور اس کے سامنے کوئی بھی حقیقت نہیں رکھتے تھے جیسے ان میں جان ہی نہ ہو۔یہ آغاز تھا انسان کا بلکہ ایک ایسا دور تھا کہ ہر جاندارا اپنے آپ ہی کو باشعور سمجھتا تھا اس لئے غیر کا احساس نہیں تھا۔غیر کا احساس تب پیدا ہوتا ہے جب اس کو باشعور سمجھے اور انسانی زندگی پر اور اس سے پہلے حیوانی زندگی پر بہت لمبا دور ایسا گزر چکا ہے کہ ہر وجود صرف اپنے آپ کو صاحب احساس سمجھتا تھا اور کسی دوسرے وجود میں احساس کا تصور ہی نہیں پایا جا تا تھا۔جوں جوں دور آگے بڑھا ہے اور انسان نے ترقی کی ہے اس کو یہ احساس پیدا ہونا شروع ہوا کہ اوروں میں بھی یہ احساس ہے۔پہلے تو یہ احساس جانوروں تک پہنچا پھر زیادہ لطافت اختیار کرنے لگا اور انسانی احساس نے بھی ترقی شروع کی ان معنوں میں کہ دوسرے کے متعلق احساس کے معاملہ میں زیادہ باشعور ہو گیا دوسرے انسانوں کے احساس کے بارہ میں بھی زیادہ باشعور ہو گیا۔تو اندرونی طور پر بھی احساس میں مزید لطافتیں اور مزید وسعتیں پیدا ہونی شروع ہوئیں اور بیرونی طور پر بھی احساس میں مزید لطافتیں اور مزید وسعتیں پیدا ہونی شروع ہوئیں یہاں تک کہ جب انسان نے علم میں زیادہ ترقی کی تو اس نے یہ محسوس کیا کہ صرف جاندار ہی حساس نہیں بلکہ پودے بھی حساس ہیں اور پودوں میں بھی ایک قسم کی جان ہے، نہ صرف جان ہے بلکہ احساس رکھتے ہیں اور کوئی شعور رکھتے ہیں۔اب تک ان کا نروس سسٹم (Nervous System) تو انسان معلوم نہیں کر سکا کہ پودوں کے اندر اعصاب ہیں اور ان اعصاب کے ذریعہ وہ محسوس کرتے ہیں لیکن اس بات کے قطعی شواہد موجود ہیں کہ پودوں میں احساس پایا جاتا ہے اور اب جو امریکہ میں ریسرچ ہو رہی ہے لائٹ ڈیٹیکٹر (Light Detectors) کے ذریعہ پودوں کے اوپر۔اُس سے تو اگر چہ ابھی دعوئی کی حد تک ہے لیکن اگر وہ دعوے 1/10 حصہ بھی درست ہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ پودوں کا شعور