خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 157 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 157

خطبات طاہر جلد ۳ 157 خطبه جمعه ۲۳ / مارچ ۱۹۸۴ء اللہ تعالی کی صفت حلم (خطبه جمعه فرموده ۲۳ / مارچ ۱۹۸۴ء بمقام مسجد اقصی ربوه) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیت قرآنی کی تلاوت فرمائی: تُسَبِّحُ لَهُ السَّمَوتُ السَّبْعُ وَالْاَرْضُ وَمَنْ فِيْهِنَّ b وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَكِنْ لَّا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ إِنَّهُ كَانَ حَلِيْمًا غَفُورًا (بنی اسرائیل: ۴۵) اور پھر فرمایا: یہ آیت جس کی میں نے تلاوت کی ہے اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تُسَبِّحُ لَهُ السَّمَوتُ السَّبْح ساتوں آسمان وَالْاَرْضُ اور زمین بھی اور جو کچھ بھی ان دونوں میں ہے یعنی تمام کی تمام کائنات اور اس کے اندر جو چیزیں بھی مخفی ہیں ان میں سے ہر ایک چیز خدا تعالیٰ کی تسبیح کر رہی ہے اور اس کی حمد بیان کرتی ہے لیکن تم لوگ ان کی زبان کو سمجھتے نہیں ، وہ جس زبان میں حمد کرتے ہیں جس طرح خدا کی تسبیح بیان کرتے ہیں تم اس کو نہیں سمجھتے إِنَّهُ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًا الله تعالیٰ بہت حلیم اور بہت غفور ہے۔گزشتہ خطبہ میں میں نے یہ بیان کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں اپنی صفات کو مختلف رنگ میں پھیر پھیر کر بیان فرماتا ہے اور جس موقع اور محل کے مطابق کسی صفت کا بیان ہوتا ہے اس سے اس صفت پر ایک خاص روشنی پڑتی ہے اور بعض دفعہ کسی ایک صفت کے ساتھ ایک اور دوسری