خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 156
خطبات طاہر جلد ۳ 156 خطبه جمعه ۱۶ / مارچ ۱۹۸۴ء تبھی بہت کم لوگوں کے لئے لفظ حلیم استعمال ہوا ہے۔ انبیاء میں بڑی بڑی صفات ہوتی ہیں لیکن غیر معمولی طور پر جو لفظ حلیم استعمال ہوا ہے وہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لئے استعمال ہوا ہے اور اللہ تعالیٰ نے بڑی خوش خبری دی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جب یہ فرمایا کہ تجھے ایک بیٹا دیا جائے گا وہ دل کا حلیم ہو گا یعنی ایسے وقت میں ہم تمہیں ایک ایسا وجود بخش رہے ہیں جب کہ حلم مفقود ہو چکا ہے لیکن وہ صاحب حلم آنے والا ہے۔ تو حضرت رسول اکرم ﷺ تو یہ توقع رکھ رہے ہیں آپ سے کہ جس طرح عیسی سے خدا نے علوس کہا تھا کہ تیرے بعد ایک اور قوم آنے والی ہے ، ایک اور قسم کے مسیحی پیدا ہونے والے ہیں جو محمد مصطفی ﷺ کے غلام ہوں گے اور ان سے ہنر سیکھیں گے، ان سے آداب حاصل کریں گے، وہ قوم ایسی ہو گی کہ جب حلم دنیا سے مفقود ہو چکا ہوگا تو اس وقت وہ صاحب علم ہوں گے۔ پس آنحضرت ﷺ کی اس پیشگوئی کا آپ بھی ۔ پ بھی مورد ہیں اور امر واقعہ یہ ہے کہ اس وقت حلم مفقود ہو چکا ہے دنیا سے ۔ جماعت احمد یہ نے اس صفت کا جھنڈا پھر اٹھانا ہے اور دنیا میں دوبارہ اس کو قائم کرنا ہے لیکن خیرات گھروں سے شروع ہوتی ہے پہلے اپنے گھروں میں تو حلیم بن جائیں جو اپنی عورت کے مقابل پر حلیم نہیں ہے، جو کمزور بچوں کے مقابل پر حلیم نہیں ہے جو مغلوب الغضب ہو کران پر ہاتھ اٹھاتا ہے اور زیادتیاں کرتا ہے اور ظلم اور سفاکی سے کام لیتا ہے وہ اپنے دشمن کے مقابل پر کیسے حلیم ہوگا؟ بظاہر وہ یہ کہہ سکتا ہے کہ مجھے فلاں نے گالیاں دیں، فلاں مولوی صاحب نے اس قدر بد کلامی کی دیکھو میں حوصلے میں رہا لیکن اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اسے جھٹلائیں گے کہ تو اس لئے حوصلے میں رہا کہ تو کمزور تھا اس لئے کہ تیرا بس نہیں چل رہا تھا جب میرے کمزور بندے تیرے سپرد کئے گئے تھے جن پر تیرا بس چلتا تھا اس وقت تو نے کبھی حلم نہیں دکھایا ۔ پس تو نے میری صفت حلم سے تعلق توڑ ڈالا ہے تیرا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے اس پہلو سے اس لئے گھروں میں پہلے حلیم بنے ان کمزوروں کے اوپر حلیم بنئے جو آپ کے سپرد کئے گئے ہیں تب اللہ تعالیٰ کی صفت حلیمی آپ کو ڈھانپ لے گی اور طاقتور کے غضب کی راہ میں حائل ہو جایا کرے گی ، توفیق ہی نہیں دے گی کسی طاقتور کو کہ اس کا غصہ آپ پر ٹوٹ پڑے کیونکہ آپ نے خدا کی خاطر اپنے غصہ کو روکا تھا اور اپنے فہم کو قائم رکھا تھا اللہ تعالی ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین ۔