خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 144 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 144

خطبات طاہر جلد ۳ کر بیان اس طرح فرماتے ہیں کہ : 144 خطبہ جمعہ ۹ / مارچ ۱۹۸۴ء ایک شخص لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا اور اس نے ملازم کو کہہ رکھا تھا کہ جب تو کسی کو تنگ دست پائے ، غریب ہو اور قرض ادا نہ کر سکتا ہو تو اس سے در گزر سے کام لیا کرو۔اس سے کوئی سختی نہیں کرنی شاید اس طرح اللہ تعالیٰ ہمیں بھی معاف فرما دے۔جب اس کی وفات ہوئی تو اس کو اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا۔( صحیح بخاری کتاب البیوع باب من النظر معسرا) یہ خبر خدا تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو دی ہے اور یہ بھی حدیث قدسی ہے۔تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کے فعل سے خدا تعالیٰ اس طرح راضی ہوا کہ اللہ نے خود آنحضور ﷺ کو اس کے حالات کا ذکر فرما کر اس کی بخشش کے متعلق اطلاع عطا فرمائی۔جہاں تک استغفار کی روح کا تعلق ہے وہ دعا ہی ہے اور امر واقعہ یہ ہے کہ دعا اور اس بجز کا اظہار کہ ہم اپنی طاقت سے نیک نہیں ہو سکتے ، اپنے زور اور اپنی قوت سے کسی بدی کو چھوڑ نہیں سکتے اور کسی نیکی کو اختیار نہیں کر سکتے۔چنانچہ آخری تان استغفار میں دعا پر ہی ٹوٹتی ہے۔دعا ہی استغفار ہے اور استغفار کے لئے بھی دعا ہی کرنی چاہئے اور آنحضرت ﷺ نے ایک بہت ہی پیاری دعا ہمیں اس سلسلہ میں سکھائی ہے۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ انہوں نے آنحضرت ﷺ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! مجھے کوئی ایسی دعا سکھائیں جو میں نماز میں مانگا کروں۔تو آپ نے فرمایا یہ دعا مانگا کرو: اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْماً كَثِيراً وَّ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِّنْ عِنْدِكَ وَارْحَمْنِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ( مسند احمد بن حنبل جلد مسند العشرة المبشرين من الجنه باب مسندابي بكر ) کہ اے میرے اللہ میں نے اپنی جان پر بہت ظلم کیا ہے ظُلْماً كَثِيراً بہت ہی گناہ کئے ہیں میں نے وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا انت لیکن یہ بھی جانتا ہوں اچھی طرح کہ تیرے سوا کوئی بخشنے والا نہیں ہے فَاغْفِرْ لِی مَغْفِرَةً مِّنْ عِندِكَ پس میری مغفرت اپنے حضور سے فرما۔بہت ہی پیارا انداز ہے یہ دعا کا فاغفر لی نہیں کہا صرف بلکہ فرمایا کہ اپنی جناب سے یعنی میرا استحقاق کوئی نہیں