خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 143
خطبات طاہر جلد ۳ 143 خطبہ جمعہ ۹ / مارچ ۱۹۸۴ء کمزور ہے اس وقت اس کی حالت ایسی پیدا ہو گئی ہے کہ جس کے نتیجے میں اس نے بدیوں سے رکنے کا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ شاید نہ رک سکے۔ہم شاید کہتے ہیں اللہ کو تو علم ہوگا کہ وہ رک سکتا تھا یا نہیں رک سکتا تھا۔تو اس آخری فیصلہ کے وقت وہ اس کا آخری فعل تھا جس کے بعد اس کی وفات ہوگئی اور اللہ تعالیٰ نے اس کی مغفرت فرما دی بلکہ حدیث کے الفاظ یہ ہیں کہ رات وہ مردہ پایا گیا اپنے گھر میں اور اس کے دروازے پر یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اس نیکی کے بدلہ کفل کو معاف فرما دیا ہے۔“ یعنی صرف اس سے مغفرت ہی نہیں کی بلکہ ستاری کا بھی عجیب سلوک فرمایا اور اس کو تمام ان لوگوں کے سامنے سرخرو فر ما دیا جو جانتے تھے کہ یہ انتہائی بد انسان ہے۔تو استغفار کا معنی گناہوں سے بخشش کے معنوں میں بھی آتا ہے جس طرح کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے عرفان کے نتیجہ میں اس معنی کو پایا اور ہمارے سامنے بیان کیا۔وہ یہ نہیں ہے کہ محض معافی مانگی جائے بلکہ بخشش طلب کی جائے ایک خاص جذ بہ کے ساتھ۔ایسا جذ بہ جو روح کی پنہائیوں تک اثر انداز ہونے والا ہو۔ایسا جذ بہ جو بعض دفعہ جگر کے ٹکڑے ٹکڑے کر دے۔ایک ایسا جذبہ جس کے نتیجہ میں انسان کا وجود کانپنے لگے اور اس طرح اس کی بدیاں جھڑ جائیں جس طرح خشک پتے ہوا کے جھونکوں سے جھڑ جایا کرتے ہیں اور اس کی نیکیاں قائم رہیں اور یہ ارادے دل سے بلند ہوں کہ آئندہ میں بدیوں کے قریب نہیں جاؤں گا اور استغفاران معنوں میں انسان کرے کہ اے اللہ ! مجھے بدیوں سے آئندہ محفوظ رکھنا اور میرے پچھلے گناہ معاف فرما دے۔اس صورت میں اللہ تعالیٰ ایسے انسان کی بخشش فرما دیتا ہے اور اس لحاظ سے چونکہ وہ مالک ہے اس لئے کوئی گناہ کا درجہ یا مرتبہ یا اس کی کمیت اور کیفیت خدا کی بخشش کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتے۔پھر جیسا کہ میں نے کہا تھا انسان کا بندوں سے حسن سلوک ، بندوں پر رحم کرنا یہ خدا تعالیٰ کو بہت پسند ہے۔وہاں بھی دراصل جو واقعہ بیان ہوا ہے اس میں جذ بہ رحم تھا جو غالب آیا۔رحم شروع ہوا ہے ایک غریب عورت پر اور اس نے جنم دیا ہے پھر اللہ کے خوف کو اور وہ درجہ بدرجہ انسان ترقی کرتے کرتے اپنی کیفیت میں اس مقام کو پہنچ گیا کہ جہاں اللہ تعالیٰ کی بخشش واجب ہو جاتی ہے۔پس بنی نوع انسان سے رحم کا بخشش سے بڑا گہرا تعلق ہے۔چنانچہ حضرت رسول اکرم ﷺ اسی مضمون کو کھول