خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 142
خطبات طاہر جلد ۳ 142 خطبه جمعه ۱۹ مارچ ۱۹۸۴ء ہے اس کا عملی ثبوت مومن کی زندگی میں یہ ملتا ہے کہ وہ بدیوں سے بے تعلق ہو جاتا ہے جس طرح ایک درخت ان سوکھے پتوں سے بے تعلق ہو جاتا ہے جو ہوا کے جھونکے سے اس کو چھوڑ گئے ہوں ہمیشہ کے لئے اور نیکیوں سے بے تعلق نہیں ہوتا بلکہ وہ مزید نشو و نما پاتی ہیں کیونکہ سوکھے ہوئے پتے جب جھڑتے ہیں تو لازماً اس درخت کے سبز پتوں کو زیادہ خوارک ملا کرتی ہے۔ صلى الله ایک اور موقع پر آنحضور ﷺ نے خدا تعالیٰ کی مغفرت کے حصول کے جو نکات ہیں باریک ان کو بیان کرتے ہوئے فرمایا اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں یہ حدیث میں نے آنحضور سے ایک بار نہیں سات بار نہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ بار مرتبہ سنی ہے۔ صلى الله عروسه آپ فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص کفل نامی تھا جو گناہ سے بچتا نہیں تھا۔ ایک دفعہ قحط کے نتیجہ میں جب غربا میں فاقہ کشی پھیل گئی اور جان بچانا مشکل ہوگئی تو ایک غریب عورت اس کے پاس آئی۔ اس سے اس نے اس کی عصمت کا سودا کیا اور کہا کہ میں تجھے اتنے روپے دوں گا اگر تو اپنی عصمت میرے پاس بیچ دے۔ وہ غریب عورت تھی اور اس کے گھر والے فاقے کر رہے تھے اس لئے اس کا کوئی اختیار نہیں تھا۔ آنحضور ﷺ فرماتے ہیں کہ وہ روتی رہی اور اس کا بدن کا چنے لگا اس پر اس نے پوچھا کہ کیا دیکھ رہا ہوں تو کیوں روتی ہے اور کیوں تیرا بدن کانپ رہا ہے؟ اس نے کہا کہ مجھے رہا ۔ خدا تعالیٰ نے جس بدی سے بچائے رکھا ہے میں خدا کی خاطر تجھے واسطہ دیتی ہوں کہ مجھے اس بدی پر مجبور نہ کر ۔ اس پر محض خوف خدا سے، رضائے باری تعالیٰ کی خاطر اس بندے نے فیصلہ کیا کہ میں اس صلى الله سے باز آجاؤں گا اور صرف یہی فیصلہ نہیں کیا آنحضور ﷺ فرماتے ہیں کہ اس نے عہد کیا کہ میں آئندہ کبھی بدی کے قریب نہیں جاؤں گا۔ (سنن ترمذی کتاب صفة القيامه والرقاق والورع ) یہ ہے مغفرت کا وہ نکتہ جس کو بعض اوقات بعض راویوں نے حدیث مکمل نہ بیان کرنے کے نتیجہ میں چھوڑ دیا اور لوگوں میں غلط فہمیاں پیدا ہو گئیں کہ اس کے بعد بھی گویا بد رہا اس کے بعد بھی ان گناہوں میں ملوث رہا اور پھر اللہ نے بخش دیا۔ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ آنحضور عالیہ واضح طور پر صلى الله وسله فرماتے ہیں کہ نہ صرف یہ کہ وہ رکا اس وقت بلکہ اس کے دل پر اللہ کا ایسا خوف طاری ہوا کہ اس نے فیصلہ کیا کہ میں آئندہ بدی کے قریب نہیں جاؤں گا اور خدا کی رحمت کی شان دیکھیں کہ اسی رات وہ مر گیا اور خدا نے اس کو ابتلا سے محفوظ کر لیا۔ یعنی بخشش کی ایک یہ بھی شان ہے۔ خدا جانتا تھا کہ وہ بندہ