خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 141 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 141

خطبات طاہر جلد ۳ 141 خطبہ جمعہ ۹ / مارچ ۱۹۸۴ء ”حضرت سہل بن سعد روایت کرتے ہیں کہ انصار میں سے ایک شخص پر اللہ تعالیٰ کی خشیت طاری ہوگئی اور وہ رونے لگا اور اتنی بڑی خشیت کہ اس نے اپنے آپ کو گھر میں قید کر لیا یعنی باہر نکلنا چھوڑ دیا۔آنحضور سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ اس کے گھر تشریف لے گئے۔جب آپ اندر داخل ہوئے اور اس کی گردن کو ہاتھ لگا کر دیکھا کہ کیا حالت ہے تو وہ مرکز گر پڑا یعنی وہ آخری دموں تک پہنچا ہوا تھا۔اس پر آنحضور ﷺ نے فرمایا اس کی تجہیز و تکفین کا انتظام کرو کیونکہ خوف خدا اور خشیت الہی سے اس کا جگر ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا ہے۔“ پس خشیت صرف نام لے لینا کہ ہم خشیت رکھتے ہیں، خشیت اور خوف رکھتے ہیں خدا کا یہ اور بات ہے اور ایک ہے اندرونی حالت انسان کی۔وہ اندرونی حالت بعض دفعہ اتنا جوش دکھاتی ہے کہ جیسے آنحضور ﷺ نے فرمایا خوف خدا سے واقعتہ اس کا جگر ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔پھر آنحضور ﷺ کے متعلق حضرت عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم آنحضو ر ے کے ساتھ ایک درخت کے نیچے بیٹھے ہوئے تھے کہ ہوا چلی اور اس درخت کی خشک پتے گرے اور سبز پتے باقی رہ گئے تو آنحضور ﷺ نے فرمایا ایسے درخت کی مثال کیسی ہے۔صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ہم تو جو کچھ سیکھتے ہیں آپ ہی سے سیکھتے ہیں۔آپ فرمائیے ، آپ بتائیے کہ اس درخت کی مثال کیسی ہے تو آپ نے فرمایا یہ ایک ایسے مومن کی مثال ہے جس کے اللہ کی خشیت سے رونگھٹے کھڑے ہو جائیں تو اس کے گناہ اس سے جھڑ جائیں گے اور اس کی نیکیاں باقی رہ جائیں گی۔(شعب الایمان بیھتی۔الفصل الثانی ذکر آثار و اخبار وردت فی ذکر اللہ عز وجل ) تو خشیت سے مراد صرف ایک جذبہ نہیں ہے بلکہ جس طرح خزاں رسیدہ پتے جھڑ جایا کرتے ہیں ہوا کے جھونکے سے اس طرح گناہ جھڑ کر اس سے تعلق توڑ لیتے ہیں یہ مراد ہے خدا تعالیٰ کی بخشش کی اور سبز پتے وہ نیکیاں جو باقی تھیں اسی طرح رہ جاتی ہیں۔وہ درخت تو چاہے کم سرسبز ہو یا زیادہ سرسبز ہو صرف سرسبز ہی رہے گا نیکیاں کم بھی ہوں گی تو وہ باقی رہ جائیں گی اور بدیاں زیادہ بھی ہوں گی تو جھڑ جائیں گی۔وہ سوکھے ہوئے پتے دوبارہ تو نہیں درخت پر لگ جایا کرتے۔پس آنحضور ﷺ نے نہایت ہی عارفانہ رنگ میں خشیت کے نتیجہ میں بخشش کی مثال کو واضح فرما دیا۔آپ نے فرمایا کہ جس کا دل واقعتہ خدا سے ڈرتا ہے اس لمحہ میں جو اس کی بخشش ہوتی