خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 140
خطبات طاہر جلد ۳ 140 خطبہ جمعہ ۹ / مارچ ۱۹۸۴ء میں لیکن ایک انسان بعض دفعہ اپنے معاشرہ کی وجہ سے، اپنے پیدائشی حالات کی وجہ سے اور اپنی اندرونی جبلی بعض رحجانات کی بنا پر بدیوں سے مغلوب ہو جاتا ہے اور ہر بدی کے وقت بھی خدا کا خوف دامن گیر رہتا ہے اور ساری عمر اس کے ذہن پر یہ چیز غالب آجاتی ہے کہ وہ خدا سے ڈرتا ہے اور خوف کھاتا ہے کہ میرے ساتھ کیا ہوگا۔ایسے شخص کی حالت کے متعلق آنحضور ﷺ بیان فرماتے ہیں: " آپ نے فرمایا ایک آدمی جس نے کبھی کوئی نیکی نہیں کی تھی اپنے اہل سے کہا کہ جب میں مر جاؤں تو مجھ کو جلا دینا اور میری راکھ کو آدھا خشکی میں اور آدھا سمندر میں بہا دینا۔خدا کی قسم اگر اللہ نے مجھ پر قابو پالیا تو پھر مجھے ایسی سزا دے گا کہ دنیا بھر میں کسی کو نہ دی ہوگی آنحضور ﷺ فرماتے ہیں جب وہ آدمی مرا تو انہوں نے اسی طرح کیا جس طرح اس نے کہا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے خشکی اور تری کو حکم دیا کیونکہ وہ مالک ہے کہ اس کی راکھ کے ذرات کو جمع کرو۔پس وہ جمع ہوئی اور اسے وجود ملا تو اللہ نے اس سے پوچھا تم نے ایسا کیوں کیا تھا؟ اے میرے بندے! تو نے کیوں وصیت کی تھی کہ تجھے جلا کر خاک کر دیا جائے اور آدھے ذروں کو خشکی میں بکھیر دیا جائے اور آدھوں کو سمندر میں غرق کر دیا جائے؟ تو اس نے عرض کی کہ اے میرے رب ! تو تو جانتا ہے کہ میں نے کیوں ایسا کیا تھا۔میں نے صرف تیرے خوف کی وجہ سے ایسا کیا تھا۔اللہ تعالیٰ اسے فرمائے گا کہ تو نے میرا خوف کیا تھا اس لئے میں تجھے بخش دیتا ہوں“ (مسند احمد کتاب مسند المثرين من الصحابہ مسند عبد الله بن مسعود ) اور وہ سارے گناہ جن کے مقابل پر ایک بھی نیکی نہیں تھی صفت مالکیت جب جلوہ گر ہوئی تو ان کو خاک کی طرح اڑا دیا۔کچھ باقی نہیں چھوڑا ان گناہوں کا لیکن اعْتَرَفُوا بِذُنُوبِهِمْ میں اپنے درجہ کمال کو پہنچا ہے یہ شخص اور خوف خدا میں درجہ کمال کو پہنچا ہے، کوئی دوسری عملی نیکی ہو یا نہ ہو اللہ کا خوف رکھنا اور بجز کرنا اور اپنے گناہوں کا معترف رہنا یہ اپنی ذات میں ایک بہت بڑی نیکی ہے اور اسی کی طرف آنحضور ﷺ اشارہ فرما رہے ہیں کہ جہاں تک خدا کی مالکیت کا تعلق ہے اس کی کوئی بھی حد نہیں ہے اس لئے کسی انسان کے لئے مایوسی کا کوئی بھی مقام نہیں ہے۔پھر آنحضور ﷺے ایک اور شخص کے خوف کا ذکر کرتے ہیں۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ خوف خدا ہوتا کیا ہے اور بعض اوقات کس قسم کا خوف ہے جو بدیوں کو کھاتا ہے اور خدا تعالیٰ کو مغفرت پر آمادہ کرتا ہے۔