خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 138
خطبات طاہر جلد ۳ 138 خطبہ جمعہ ۹ / مارچ ۱۹۸۴ء اور پھر تم سے ہر ایک اپنی سب مرادیں مانگنے لگے اور میں ہر ایک کو اس کا مطالبہ پورا کر دوں تو میری یہ عطا میرے ملک کے خزانوں میں اتنا بھی کمی نہیں کرے گی جتنا ایک سوئی جسے سمندر میں ڈبویا جائے اور باہر نکالا جائے تو اس کے ناکے پر کچھ تھوڑا سا پانی لگا رہ جائے۔پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں جواد ہوں، میں ماجد ہوں ، جو چاہوں کرتا ہوں، مری عطا بھی کلام ہے، میرا عذاب بھی کلام ہے“۔(سنن ابن ماجہ کتاب الزهد باب ذکر التوبه ) اس حدیث میں خدا تعالیٰ کی صفت مالکیت کے ساتھ اس کی مغفرت کو جوڑا گیا ہے اور وہ گناہگار بندے جو حد سے زیادہ گناہوں میں ڈوب چکے ہوں ان کو بھی مایوسی سے نکال دیا گیا ہے اور یہ اعلان ہے کہ جہاں تک خدا تعالیٰ کی ملکیت کا تعلق ہے اس کی بخشش کی راہ میں کوئی بھی روک نہیں لیکن مالک ہے جسے چاہے گا بخشے گا جسے چاہے گا نہیں بخشے گا اور اس مضمون کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے جو شرائط واضح فرمائی ہیں ان کا ان آیات میں ذکر گزر چکا ہے جو میں نے پہلے پڑھ کر آپ کو سنائیں۔ان آیات سے تعلق رکھنے والی جو مختلف شرائط ہیں یا ایسے مواقع جن پہ خدا تعالیٰ کی مغفرت خاص جوش مارتی ہے ان کا بیان آنحضور ﷺ نے مختلف حکایات کے رنگ میں اور مختلف فرمودات میں فرمایا ہے۔ایک حدیث جو حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے اس میں وہ بیان کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بندے کے بارہ میں یہ حکم دیا کہ اسے دوزخ میں لے جاؤ، جب وہ دوزخ کے کنارے پر جا کھڑا ہوا تو مڑ کر کہا اے میرے اللہ ! میرا گمان تو تیرے بارہ میں بہت اچھا تھا یعنی میں تو آپ سے حسن ظن رکھتا تھا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا اسے واپس لے جاؤ کیونکہ میں اپنے بندہ کے گمان کے مطابق ہی اس سے سلوک کرتا ہوں“۔( الترغيب والترهيب باب في الرجاء ، شعب الایمان باب فی الرجاء من اللہ تعالیٰ ) تو سب سے بنیادی بات اللہ تعالیٰ کے متعلق اپنے ظن کو درست کرنا ہے اور یہ خیال کہ طن درست ہو جائے گا ایک کلمہ سے، یہ غلط ہے جو اللہ تعالیٰ کے متعلق ظن درست رکھتا ہے وہ جب ابتلاؤں میں ڈالا جاتا ہے تو ٹھو کر کھانے کے باوجود بھی خدا تعالیٰ کے متعلق اپنا تصور درست رکھتا ہے۔اگر اس کی دعا خدا قبول نہیں بھی کرتا تو راضی برضا رہتا ہے۔اگر کسی ابتلا سے اللہ تعالیٰ اس کو بظاہر نہیں نکالتا تو