خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 134
خطبات طاہر جلد ۳ 134 خطبہ جمعہ ۹ / مارچ ۱۹۸۴ء جو گرتا ہے اتناہی زیادہ اس کو نقصان پہنچتا ہے۔تو استغفار میں ربوبیت کے تمام پہلو شامل ہیں ، آغا ز بھی اور انجام بھی اور استغفار انجام تک انسان کی ربوبیت کرتا چلا جاتا ہے اور ٹھوکروں سے اور لغزشوں سے اس کی حفاظت کرتا ہے۔ان معنوں میں آنحضور ﷺ نے سب سے زیادہ استغفار فرمایا، اور کسی انسان کو یہ توفیق نہیں ملی کہ وہ اس حد تک استغفار کرے۔جو اس طرح استغفار کرتے ہیں ان کا رخ صرف خدا کی جانب نہیں ہوتا بلکہ بالکل اسی طریق پر وہ خدا کے بندوں کی ربوبیت کرتے ہیں اور ان معنوں میں وہ مزکی ہو جاتے ہیں۔جتنا زیادہ استغفار کرنے والا ہوگا اتنا زیادہ اس کے اندر تزکیہ کا رحجان پایا جائے گا۔اتنا زیادہ وہ بنی نوع انسان کو پاک کرنے کی بے پناہ خواہش اپنے اندر رکھتا ہوگا۔چنانچہ آنحضور ﷺ ایک پہلو سے مستغفر تھے یعنی خدا تعالیٰ سے بکثرت استغفار کر کے بلند مراتب حاصل کرنے والے ترقی کرنے والے ، ربوبیت کی وہ انتہائی منازل طے کرنے والے جو انسان کے مقدر میں ہیں اور دوسری طرف بندوں کے لئے مزکی بن گئے۔بندوں کے لئے رب نہیں تھے کیونکہ ربوبیت ایک ایسی صفت ہے جو خدا تعالیٰ کے لئے استعمال ہوتی ہے بندوں کے لئے استعمال نہیں ہوتی لیکن جب روحانی طور پر ایک انسان اپنے رب کی صفات اختیار کرتا ہے تو وہ بندوں کے لئے مزکی بن جاتا ہے، وہ ان کو پاک کرنے لگتا ہے اور ان دونوں چیزوں کا ایک دوسرے سے گہرا تعلق ہے۔وہ لوگ جو استغفار تو کرتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ کے بندوں کی اصلاح احوال کی فکر نہیں کرتے اسی قدر ان کی استغفار اپنے ماحصل سے، اپنے مطلوب سے محروم رہ جاتی ہے۔یہ نہیں ہو سکتا کہ انسان اللہ تعالیٰ سے تو یہ چاہے کہ تو مجھے گنا ہوں سے دور رکھ اور اپنی محبت میں ڈھانپ لے اور اس کے بندوں میں فحشاء کو دیکھنا پسند کرے اور ان سے محبت اور پیار کا سلوک نہ کرے ان کو اپنے ساتھ جوڑ کر ان کی اصلاح کی کوشش نہ کرے۔ان معنوں پر جب ہم نگاہ ڈالتے ہیں تو تربیت کا ایک بہت ہی اعلیٰ نکتہ ہمارے ہاتھ آتا ہے اور وہ یہ ہے کہ بندوں کی اگر آپ اصلاح کرنا چاہتے ہیں تو جس طرح خدا تعالیٰ کی محبت حائل ہوتی ہے گناہ کے درمیان اور ایک انسان کے درمیان اسی طرح انسان کی محبت حائل ہو جاتی ہے ایک بد کے درمیان اور اسکی بدیوں کے درمیان اور جب تک محبت نہ ہو اصلاح کامل نہیں ہوسکتی اس لئے جو تربیت کا دعویٰ کرتا ہے جو مز کی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ اس کے اخلاق نرم