خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 133
خطبات طاہر جلد ۳ 133 خطبہ جمعہ ۹ / مارچ ۱۹۸۴ء دے چاہے تو نہ بخشے۔ان دو لحاظ سے جب ہم خدا کی صفت غفاری پر غور کرتے ہیں تو اس کی ایک حدر بوبیت سے ملی ہوئی نظر آتی ہے اور دوسری حد مالکیت سے ملی ہوئی نظر آتی ہے۔ربوبیت کے لحاظ سے استغفار کے وہ معنے ہوں گے جو اول طور پر مذکور ہوئے ، اگر چہ دوسرے معنے میں بھی ربوبیت جلوہ گر ضرور ملتی ہے لیکن اس کا زیادہ تر تعلق صفت مالکیت سے ہے۔خدا تعالیٰ اپنے بندوں کی تربیت اس طرح بھی کرتا ہے کہ وہ خدا کے حضور ہمیشہ یہ استدعا کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں اپنی ذات میں گناہ سے بچنے کی طاقت نہیں ہے، ہمیں کوئی زعم نہیں، ہم یہ نہیں کہتے کہ ہم اپنے اعمال یا قوت ارادی کے زور سے گناہ سے بچ کر پاک لوگوں میں شمار کئے جاسکتے ہیں اس لئے تو ہم پر رحم فرما اور ہمیں گنا ہوں سے دور رکھ اس طرح کہ گناہوں اور ہمارے درمیان تیری محبت حائل ہو جائے۔ہم تیری محبت میں مستغرق ہو جائیں اور اس وجہ سے ہم گناہوں سے بچائے جائیں۔تور بوبیت کا یہ معنی بڑی قوت اور شان کے ساتھ صفت غفاریت سے تعلق رکھتا ہے۔اس کے ذریعہ انسان ہمیشہ ادنیٰ سے اعلیٰ حالتوں کی طرف ترقی کرتا چلا جاتا ہے اور اس ترقی کی راہ میں جو خدشات ہیں استغفار کے ذریعے ان خدشات سے بچتا ہے۔ان ٹھوکروں سے بچتا ہے جن کے نتیجہ میں بسا اوقات ایک ترقی یافتہ انسان بھی تحت الثریٰ میں جا گرتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم اس ضمن میں بلعم باعور کی مثال دیتا ہے۔وہ نام تو بلعم باعور نہیں لیتا لیکن ایک کتے کی مثال دے کر اس کا ذکر کیا گیا ہے کہ اس میں ایسی صفات تھیں اور ایسے اعمال کی طاقت تھی کہ جس کے نتیجہ میں اس کا رفع ہو سکتا تھا لیکن اس نے استکبار سے کام لیا اور دنیا کی طرف جھک گیا یعنی دنیاوی ذرائع پر اس نے بنا کی اور دنیا کی طرف اس کا میلان بڑھ گیا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ استغفار سے محروم رہا اور اللہ تعالیٰ سے نیکی طلب کرنے کی بجائے اس نے اپنی انانیت پر زور دیا۔یہ مفہوم ہے اس ذکر کا جو بلعم باعور کا ملتا ہے (الاعراف: ۷۷ )۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے پھر اسے دنیا کی طرف جھکنے دیا اور اس کا رفع نہ فرمایا۔اس کے متعلق روایات آتی ہیں کہ ایک وقت میں اپنی زندگی میں یہ بڑے اولیاء کے مقام تک پہنچ گیا تھا اور اس کے اندر غیر معمولی صفات پائی جاتی تھیں ترقی کی لیکن چونکہ اس نے استکبار سے کام لیا اور یہ زعم اس کے دماغ میں پیدا ہو گیا کہ گویا میں اپنے زور سے نیکی کر رہا ہوں اس لئے بڑے بلند مقام سے وہ گرایا گیا ہے اور بہت بلند چوٹی سے