خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 132 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 132

خطبات طاہر جلد ۳ 132 خطبہ جمعہ ۹ / مارچ ۱۹۸۴ء ہے، غفاری سے اور اس کی مغفرت سے ، اور پہلی آیت جو سورۃ الانعام سے لی گئی ہے اس کا ترجمہ یہ ہے کہ جب تیرے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں تو تو انہیں کہ تم پر ہمیشہ سلامتی ہو تمہارے رب نے اپنے آپ پر رحمت کو فرض کر لیا ہے اس طرح کہ تم میں سے جو کوئی غفلت میں کوئی بدی کر بیٹھے پھر وہ اس کے بعد توبہ کرلے اور اصلاح کرے تو اس خدا کی صفت یہ ہے کہ وہ بہت بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔دوسری آیت کا ترجمہ یہ ہے جو سورۃ توبہ سے لی گئی تھی کچھ اور لوگ ہیں جو خدا تعالیٰ کے حکم کے انتظار میں چھوڑے گئے ہیں اس کو یعنی خدا تعالیٰ کو اختیار ہے کہ خواہ ان کو عذاب دے یا ان کی تو بہ قبول فرمائے اور اللہ بہت جاننے والا اور حکمت والا ہے۔پھر دوسری آیت سورہ توبہ کی یہ بیان کرتی ہے کہ کچھ اور لوگ ہیں جنہوں نے اپنے گنا ہوں کا اقرار کیا انہوں نے نیک عملوں کو کچھ اور عملوں سے جو برے تھے ملا دیا یعنی بدیاں بھی کیں اور نیکیاں بھی کیں، قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان پر فضل فرما دے یعنی جسے ہم محاورۃ یہ کہہ سکتے ہیں کہ بعید نہیں کہ خدا تعالیٰ ان پر بھی فضل فرمادے، اللہ بہت بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔گزشتہ خطبہ میں میں نے خدا تعالیٰ کی صفت غفاری سے متعلق یہ بیان کیا تھا کہ اس کا ایک معنی جو نہایت اعلیٰ درجہ کا اور بہت ہی بلند پایہ معنی ہے اس کا اطلاق سب سے بڑھ کر حضرت اقدس صلى الله محمد مصطفی ﷺ پر ہوتا ہے اور اسی طرح آپ کی ذیل میں دیگر انبیاء پر۔وہاں استغفار کا معنی یہ بنتا ہے کہ اے خدا ! ہمیں گنا ہوں سے دور رکھ ، ہمیں اپنی محبت میں ڈھانپ لے یہاں تک کہ گناہوں کو یہ توفیق نہ ملے کہ ہم تک پہنچ سکیں۔ادنیٰ ہوں یا بڑے ہر قسم کے گناہوں سے ہمیں دور رکھیو ہمارے درمیان فاصلے کر ڈال۔یہ معنی ہیں جن معنوں میں انبیاء استغفار کرتے ہیں اور ان معنوں میں سب سے زیادہ اعلیٰ اور ارفع طور پر یہ صفت آنحضور ﷺ کی ذات اقدس سے تعلق رکھتی ہے لیکن اس کے اور بھی بہت سے معانی ہیں اور ان معانی میں گناہگار بندوں کا بھی ذکر چلتا ہے۔تھوڑے گناہگار بندوں کا بھی ذکر چلتا ہے اور زیادہ گناہگار بندوں کا بھی۔ایسے بھی جنہوں نے کچھ نیک اعمال کئے اور کچھ بد اعمال کئے اور ان کی زندگی نیک و بد کے درمیان لٹکتی رہی۔ایسے بندے بھی جن کے بد اعمال زیادہ غالب آگئے لیکن ان کے متعلق بھی ان کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا گیا، وہ چاہے تو انہیں بخش