خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 127
خطبات طاہر جلد ۳ 127 خطبه جمعه ۲ / مارچ ۱۹۸۴ء خیال پیدا ہوتا ہے کہ بشری لوازمات ساتھ لگے رہتے ہیں آخر تھک کر ان کو سونا بھی پڑتا ہے، آخر آرام کے دیگر ذرائع بھی اختیار کرنے پڑتے ہیں اور وہ حالتیں ان کے نزدیک گناہ بن جاتی ہیں یعنی گناہگار کا عالم تو یہ ہوتا ہے کہ وہ عیاشی میں حد بھی کر دے اور ہر قسم کے آرام اس کو مہیا ہوں تب بھی اس کی یہ تڑپ رہتی ہے کہ ابھی کچھ باقی ہونا چاہئے تھا ابھی پورا نہیں ہوسکا۔جیسا کہ غالب نے کہا ہے ناکردہ گناہوں کی بھی حسرت کی ملے داد یارب اگر ان کردہ گناہوں کی سزا ہے (دیوان غالب صفحه : ۳۴۶) کہ میری تمنا تو پوری نہیں ہوئی مجھے تو اور بہت کچھ گناہ کرنے کی حسرتیں باقی تھیں اس لئے جو میں کر سکا ہوں اگر ان پر سزا دینی ہے تو نا کردہ گناہوں کی بھی حسرت کی کچھ داد ہو جائے۔پھر کہتا ہے: دریائے معاصی تنک آبی سے ہوا خشک میراسر دامن بھی ابھی تر نہ ہوا تھا (دیوان غالب صفحه: ۸۳) تو اصطلاحیں بدل جاتی ہیں ہر شخص کی حالت کے مطابق، وہی اصطلاح مختلف معانی اختیار کر جاتی ہے۔تو ایک گناہگار جو دن رات گناہوں میں ڈوبا ہوا ہے اس کی حسرتیں پوری نہیں ہو رہی ہوتیں اور جب وہ گناہ کی بات کرتا ہے تو مراد یہ ہے کہ جتنے میں کر سکا ہوں اس سے بہت زیادہ کرنے کی تمنا تھی اور ایک نبی اور پھر نبیوں میں سے سب سے بڑا، نبیوں کا شہزادہ، نبیوں کا سردار ، نبیوں میں سب سے اقرب وافضل حضرت اقدس محمد مصطفی امی ہے جب گناہ کی بات کرتے ہیں تو اس کا مضمون ہی بالکل مختلف ہے۔وہ تھوڑا سا آرام جو آپ کو میسر آتا تھا وہ آپ کے نزدیک گناہ تھا کہ کاش! مجھ میں طاقت ہوتی کہ میں اس آرام کو بھی ترک کر کے خدا کے لئے کچھ اور کام کر لیتا۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: اور اسی کو وہ گناہ عظیم خیال کرتے ہیں اور اسی خیال سے وہ نعرے مارتے اور روتے اور درد سے بھر جاتے ہیں اور دائم استغفار میں رہتے ہیں مگر خشک مولوی جن کے دامن میں بجز ہڈیوں کے کچھ نہیں وہ اس روحانیت کو کیا