خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 123 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 123

خطبات طاہر جلد ۳ 123 خطبه جمعه ۲ / مارچ ۱۹۸۴ء امَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَّبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ که محد مصطفی ﷺ ان سب چیزوں پر ایمان لے آئے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے اتاری گئیں اور آپ کی غلامی میں ، آپ کی اطاعت میں مومن بھی درجہ بدرجہ ان چیزوں پر ایمان لے آئے۔كُلٌّ آمَنَ بِاللہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ پر ایمان لانے کا حق ادا کیا ؤ ملیگتا اور فرشتوں پر ایمان لے آئے اور کتب پر ایمان لے آئے ، اور رسولوں پر ایمان لے آئے اور یہ کہا کہ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُّسُلِهِ صلى الله یعنی حضرت اقدس محمد مصطفی مے جو سب رسولوں سے افضل ہیں ان کے انکسار کا عالم اپنے رب کے حضور یہ تھا کہ خود بھی یہی کہا اور اپنے ماننے والوں کو بھی یہی تعلیم دی کہ خدا کی طرف سے جو بھی آئے ، اعلی ہو یا ادنی ہو ہم ان سب پر ایمان لاتے ہیں۔وَ قَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا اور صرف ایمان کی حد تک نہیں بلکہ اعمال میں بھی وہ درجہ کمال کو پہنچ گئے اور انہوں نے یہ عرض کی اپنے رب سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی اور کوئی فرق نہیں رہنے دیا سننے اور اطاعت۔کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں چھوڑا تیرے احکام اور ان کی بجا آوری کے مابین سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا۔اس کے بعد مغفرت کے وہ کیا معنی لیتے ہیں اس کا ذکر ہے اور یہاں میں دو معنوں میں غُفْرَانَكَ رَبَّنا کی تفسیر کروں گا۔یہ سب کچھ کرنے کے باوجود وہ یہ عرض کرتے ہیں اپنے رب سے کہ ان اعمال سے ہم کوئی درجہ نہیں پاسکتے، کسی ثواب کے مستحق نہیں ہو سکتے۔ان سب کے باوجودہم سمجھتے ہیں کہ ہمارا کوئی اجر نہیں کیونکہ یہ ساری طاقتیں تو نے ہی عطا فرمائی تھیں۔غُفْرَانَكَ رَبَّنَا اس انتہائی بلندی کے مقام پر پہنچنے کے باوجود ہم تیری مغفرت کے طالب ہیں کہ تیری ہی مغفرت کے نتیجہ میں ہم معاف کئے جائیں گے اور ہمیں اجر عطا کئے جائیں گے۔دوسرا معنی اس کا یہ ہے کہ یہ سب کچھ تیرے غفران کے نتیجہ میں ہوا تھا۔انسان کو ذاتی طور پر معصوم ہونے کی طاقت ہی نہیں ہے، ناممکن ہے کہ وہ گناہوں سے بیچ سکے سوائے اس کے کہ تیری مغفرت اس کو حاصل ہو اس لئے یہ مرتبہ جو ہمیں عطا ہوا ہمیں پورا احساس ہے، ہم عارفانہ طور پر یہ بات جانتے ہیں کہ محض تیری غفاری کے نتیجہ میں تیری مغفرت کی عطا کے طور پر ہمیں یہ معصومیت عطا ہوئی کہ ہم سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا کہنے کے مقام پر کھڑا کئے گئے۔پس مغفرت کے یہ دو معانی ہیں جو نہایت اعلیٰ اور ارفع ہیں اور آنحضرت ﷺ کے متعلق