خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 119
خطبات طاہر جلد۳ 119 خطبه جمعه ۲۴ فروری ۱۹۸۴ اسلامی احکامات میں رخصت درعایت کا نظا ( خطبه جمعه فرموده ۲۴ فروری ۱۹۸۴ء بمقام مسجد اقصی ربوه) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا: اسلام کی پیاری شان میں سے اس کا رخصتوں کا نظام بھی ایسا نظام ہے جو دنیا کے کسی مذہب میں بھی موجود نہیں۔حیرت انگیز بات ہے، اگر تکمیل کے دعوی کو صرف اسی طرح ہی پر کھ لیا جائے کہ سارے مذاہب میں تلاش کریں موقع ومحل کے مطابق رعایتیں موجود ہیں کہ نہیں ؟ اشارةُ بھی یہ مضمون ہی کہیں نہیں ملتا اور حیرت کی بات یہ ہے کہ اسلام میں ہر عبادت میں اور صرف ہر عبادت میں ہی نہیں بلکہ ہر حکم میں ایک رعایت کا نظام ملتا ہے۔یہ صورت ہو تو کیا کرنا چاہئے ، یہ دقت ہو تو کیا کرنا چاہئے اور پھر عبادت کے بھی ہر حصے میں نہ کہ جمعہ کے متعلق۔پہلے تو سہولت تھی عصر کے ساتھ جمع کیا جاسکتا ہے مختصر کیا جاسکتا ہے، پانی نہیں تو تیم سے پڑھ لیا جائے ہنسل کی شرط اٹوٹ گئی، لیکن ساتھ یہ بھی ہے کہ اگر نہ بھی کر وتب بھی کوئی حرج نہیں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک مرتبہ صرف اس رخصت کو پورا کرنے کی خاطر جمعہ کے متعلق فرمایا کہ آج ہم جمعہ نہیں پڑھیں گے ،صرف ظہر کی نماز ہوگی۔ہم نے بھی ایک دفعہ سوئٹزر لینڈ میں سفر کے دوران اسی سنت پر عمل کیا تھا۔لیکن آج مختصر خطبہ دے کر صرف اس طرف توجہ دلا کر میں ختم کرتا ہوں کہ اسلام کے دیگر مذاہب سے موازنہ میں رخصتوں والا پہلو بھی ایک بہت ہی شاندار پہلو ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ اسلام کے ہر حکم کو نمایاں کر کے دنیا کے سامنے پیش کر سکیں۔آمین۔