خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 114
خطبات طاہر جلد ۳ 114 خطبہ جمعہ ۷ ار فروری ۱۹۸۴ء بچے اور بوڑھے عورتیں اور مرد سب اہل اللہ ہو جائیں اللہ سے محبت کرنے لگیں اور وہ ساری دنیا کی تقدیر بدلنے کے لئے دعائیں کریں تو اس ایک ملک کی دعائیں ساری دنیا کی تقدیر بدل دیں گی۔یہ وہ مرکزی نقطہ ہے جس کو بھلا کر آپ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے اہل اللہ بننا پڑے گا یعنی اللہ سے محبت کرنی پڑے گی اور جتنے دور ہیں خدا سے اتنی بے قراری دکھانی پڑے گی۔خدا کے بغیر تو کچھ بھی نہیں ہے مذہب کا مقصد ہی کوئی نہیں، بے معنی باتیں ہیں ساری۔یہ ساری ورزشیں رہ جاتی ہیں بے مقصد عبادت اور کوشش اور قربانیاں کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتیں اگر محبت الہی نہیں ہے اور یہ سب سے آسان کام بھی ہے اور سب سے اعلیٰ کام بھی ہے۔اللہ کی محبت کو پیدا کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔جس رنگ میں جس طرح بھی آپ خدا سے پیار کی باتیں کر سکتے ہیں کرنی شروع کر دیں۔صبح کو، دو پہر کو، رات کو، یہ خیال کریں کہ جب بھی کوئی بات ہو کوئی تبدیلی ہوسب سے پہلے خدا یاد آئے۔خوشی پہنچے تو پہلے خدا یاد آئے ، غم پہنچے تو پہلے خدا یاد آئے ، خوف ہو تو پہلے خدایا دآئے، کچھ ملے تو خدا یاد آئے ، کچھ کھوئیں تو خدا یاد آئے ، اپنے بچوں کو پیار سے دیکھیں تو خدا یاد آئے ،اپنے ماں باپ پر نظر کریں تو خدا یاد آئے یعنی سارے ماحول میں شش جہات میں آگے اور پیچھے دائیں اور بائیں ہر طرف اللہ تک پہنچنے کی بصیرت پیدا کرنے کی کوشش کریں اور اس کے لئے بھی دعائیں کریں۔لیکن جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے خدا اگر ظاہر ہو تو یہ ہر جگہ موجود ہے۔اس لئے اس کا ایک نام ظاہر بھی ہے۔باطن بھی ہے اور ظاہر بھی ہے۔ان لوگوں کے لئے باطن ہے ایک معنی میں جو غفلت کی نظر سے اس کو دیکھتے ہیں۔ساری کائنات میں موجود ہونے کے باوجود ہر ذرہ میں ہونے کے باوجود وہ چھپا ہوا ہے نظر ہی نہیں کسی کو آتا اور وہ ظاہر ہوتا جاتا ہے ان لوگوں کے لئے جو محبت اور پیار کی نظر سے اس کو دیکھتے ہیں، ان کو ہر جگہ خدا ہی خدا نظر آنے لگ جاتا ہے۔چنانچہ ایک بزرگ کا واقعہ آتا ہے کہ ایک دفعہ ان کے سامنے لڈوؤں کا ٹوکرا آیا اور باقی جو شاگرد تھے انکوانہوں نے دیا تقسیم کیا ، کافی کافی لڈوان کے ہاتھ آئے انھوں نے کھائے اور چند منٹوں میں فارغ بھی ہو گئے اور وہ اس وقت ایک خاص کیفیت میں تھے۔یہ مطلب تو نہیں کہ وہ ہمیشہ اسی طرح کھایا کرتے تھے۔اگر اسی طرح وہ کھاتے رہیں ہمیشہ تو کسی بزرگ کا ایک لڈو مہینے میں بھی ختم نہ ہو مراد صرف اتنی ہے کہ بعض خاص عشق کی حالتیں ہوتی ہیں ان میں انسان جب ڈوبنے لگتا ہے تو