خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 98
خطبات طاہر جلد ۳ 98 خطبہ جمعہ ۷ ار فروری ۱۹۸۴ء معلوم ہونے کے باوجود کہ آپ فوت شدہ ہیں اس نظارے سے طبیعت میں کسی قسم کا کوئی تر درد نہیں پیدا ہوتا۔آپ کی جب مجھ پر نظر پڑتی ہے تو ساتھ والی کرسی پر بیٹھے ہوئے شخص کو جن کا چہرہ میں پہچانتا نہیں بہت سے آدمی ہیں لیکن بے نام چہرے ہیں تو اس کو فوراً اشارہ سے کہتے ہیں کرسی خالی کرو اور مجھے پاس بٹھا کر مصافحہ کرتے ہیں اور ہاتھ کو بوسہ دیتے ہیں جس طرح کوئی خلیفہ وقت کے ہاتھ کو بوسہ دیتا ہے اور مجھے اس سے شرمندگی ہوتی ہے مجھے معلوم ہے کہ آپ کیا کہنا چاہتے ہیں کہ میں جانتا ہوں کہ تم خلیفہ ہو۔لیکن طبیعت میں سخت شرم محسوس ہوتی ہے اور انکسار پیدا ہوتا ہے۔تو میں فوراً آپ کے ہاتھ کو بوسہ دیتا ہوں تو آپ یہ بتانے کے لئے کہ نہیں میرا بوسہ باقی رہے گا تمہارے بوسے سے، یہ (Cancel) نہیں ہوتا، دوبارہ میرے ہاتھ کو پھر بوسہ دیتے ہیں کھینچ کر اور پھر میں محسوس کرتا ہوں کہ اب تو اگر میں نے یہ سلسلہ شروع کر دیا تو ختم نہیں ہوگا اس لئے اس بحث کا کوئی فائدہ نہیں۔چنانچہ میں اصرار بند کر دیتا ہوں۔اس کے بعد مجھے فرماتے ہیں کہ اب تو تم پوری طرح خلافت کا چارج لے لو، اب مجھے رخصت کرو یعنی میری ساتھ رہنے کی ضرورت کیا ہے اب۔تو میں کہتا ہوں کہ اس میں ایک حکمت ہے اور وہ یہ ہے کہ خلافت کوئی شریکا نہیں۔کوئی ایسی چیز نہیں ہے دنیا کی جس میں کسی قسم کا حسد یا مقابلہ ہو بلکہ یہ ایک نعمت ہے اور انعام ہے۔میں دنیا کو بتانا چاہتا ہوں کہ صاحب انعام لوگوں میں آپس میں محبت ہوتی ہے، پیار کا تعلق ہوتا ہے اور کسی قسم کا حسد یا مقابلہ نہیں ہوتا۔تو یہ مفہوم میں آپ کے سامنے بیان کرتا ہوں اور اس کے بعد یہ نظارہ ختم ہو گیا۔ایک اور بات آپ نے مجھے خواب میں کہی جو مبارک ہے اس میں اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ ایک بات میں نے کہی ہے اور وہ انشاء اللہ تعالیٰ جماعت کے حق میں اچھی ہوگی۔اس کے بعد یہ نظارہ ختم ہوا تو کچھ دیر کے بعد اسی رات خواب میں صرف یہ چھوٹا سے نظارہ دیکھا ہے کہ حضرت نواب امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی صاحبزادی اور ہماری پھوپھی ہیں وہ میرے گھر میں داخل ہو رہی ہیں اور اس کے سوا اور کوئی نظارہ نہیں ہے۔صرف ان کو میں گھر میں داخل ہوتے دیکھتا ہوں اور خواب ختم ہو جاتی ہے۔تیسری خواب میں دیکھا کہ ایک میز چنی ہوئی ہے اور اس پر ہم کھانا کھا رہے ہیں اور میرے دائیں جانب حضرت سیدہ نواب مبار کہ بیگم بیٹھی ہوئی ہیں اور بڑے خاص پیار اور محبت کے ساتھ