خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 95
خطبات طاہر جلد ۳ 95 خطبه جمعه ۱۰ فروری ۱۹۸۴ء ساری کایا پلٹ جاتی ہے انسان کی ۔ اس کے تعلقات کے دائرے بدل جاتے ہیں۔ دو " معصیت کے دوست اور ہوتے ہیں اور تقویٰ کے دوست اور ۔ اس تبدیلی کو صوفیا نے موت کہا ہے۔ جو تو بہ کرتا ہے اسے بڑا حرج اٹھانا پڑتا ہے اور سچی توبہ کے وقت بڑے بڑے حرج اس کے سامنے آتے ہیں اور اللہ تعالیٰ رحیم و کریم ہے، وہ جب تک اس کل کا نعم البدل نہ عطا فرماوے نہیں مارتا ۔ یعنی ان قربانیوں کا بدلہ اسی دنیا میں اسے عطا فرماتا ہے۔ نہیں مارتا جب تک کہ اس کل کا پورا بدلہ عطا نہ فرمادے۔ إِنَّ اللهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ میں یہی اشارہ ہے کہ وہ تو بہ کر کے غریب بے کس ہو جاتا ہے اس لئے اللہ تعالی اس سے محبت اور پیار کرتا ہے اور اسے نیکوں کی جماعت میں داخل کرتا ہے۔ ( ملفوظات جلد اصفحہ ۲) پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: اور نومید مت ہو اور یہ خیال مت کرو کہ ہمارا نفس گنا ہوں سے بہت آلودہ ہے، ہماری دعا ئیں کیا چیز ہیں اور کیا اثر رکھتی ہیں کیونکہ انسانی نفس جو دراصل محبت الہی کے لئے پیدا کیا گیا ہے وہ اگر چہ گناہ کی آگ سے سخت مشتعل ہو جائے پھر بھی اس میں ایک ایسی قوت تو یہ ہے کہ اس آگ کو بجھا سکتی ہے۔ جیسا کہ تم دیکھتے ہو کہ ایک پانی کو کیسا ہی آگ سے گرم کیا جائے مگر تا ہم جب آگ پر اس کو ڈالا جائے تو وہ آگ کو بجھا دے گا۔ ( براھین احمد یہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد ۱ ۲ صفحه ۳۴) پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: پس اٹھو اور توبہ کرو اور اپنے مالک کو نیک کاموں سے راضی کرو ۔ اور یاد رکھو کہ اعتقادی غلطیوں کی سزا تو مرنے کے بعد ہے اور ہندو یا عیسائی یا مسلمان ہونے کا فیصلہ تو قیامت کے دن ہوگا لیکن جو شخص ظلم اور تعدی اور فسق تا و فجور میں حد سے بڑھتا ہے اس کو اسی جگہ سزادی جاتی ہے تب وہ خدا کی سزا سے