خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 94
خطبات طاہر جلد ۳ 94 خطبه جمعه ۰ ار فروری ۱۹۸۴ء یہ پہچان ہوتی ہے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ ملتے ہیں جس طرح Wave lines ملتی ہیں اس طرح عارف کے دل کی حرکت اور اس کا تموج بھی ایک دوسرے عارف کے دل کی حرکت اور اس کے تموج کے ساتھ ہم آہنگ ہو جایا کرتا ہے۔تو کتنی پیاری بظاہر وہ کہانی ہے لیکن حقیقت میں ایک تمثیلی کلام ہے جس میں گہرے معرفت کے راز ہیں اس کی تفسیر ہے یہ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام جو کچھ فرمارہے ہیں۔اپنا وطن اس نے مقرر کر لیا ہوا ہے گویا کہ گناہ میں اس نے بود وباش مقرر کر لی ہوئی ہے۔اس وطن کو چھوڑنا اور رجوع کے معنی پاکیزگی کو اختیار کرنا۔اب وطن کو چھوڑ نا بڑا گراں گزرتا ہے اور ہزاروں تکلیفیں ہوتی ہیں۔ایک گھر جب انسان چھوڑتا ہے تو کس قدر سے تکلیف ہوتی ہے اور وطن کے چھوڑنے میں تو اس کو سب یار دوست سے قطع تعلق کرنا پڑتا ہے اور سب چیزوں کومثل چار پائی ، فرش و ہمسائے ، وہ گلیاں، کوچے ، بازارسب چھوڑ چھاڑ کر ایک نٹے ملک میں جانا پڑتا ہے یعنی اس ( سابقہ ) وطن میں پھر کبھی نہیں آتا۔یعنی ایسی نیت سے جانا پڑتا ہے کہ ان سب چیزوں کو پھر نہیں دیکھوں گا۔ان سے ہمیشہ کے لئے قطع تعلقی ہورہی ہے اور اسی کا نام موت ہے چنانچہ بار بار اس منظر کوموت کے ذریعہ پیش کرنا بعینم سو فیصدی درست ہے پوری طرح اطلاق پاتا ہے۔اس صورت حال سے اور کیسا پیارا نقشہ کھینچا ہے گناہوں کی بھی گلیاں ہوتی ہیں گناہوں کے بھی فرش ہوتے ہیں ان کی بھی در دو دیوار ہوتے ہیں ان کی بھی دوستیاں اور یار یاں ہوتی ہیں اور ایک گناہ جس سے انسان لذت پاتا رہا ہو بڑی دیر تک اس کے ساتھ ایسی محبت محسوس کرتا ہے جیسے وطن مالوف سے اور اس سے پھر الگ ہونا اور اس کامل یقین اور ارادہ کے ساتھ الگ ہونا کہ اب میں کبھی اس پر دوبارہ نظر نہیں ڈال سکوں گا۔یہ ہے وہ موت یعنی ترک وطن کی موت جہاں گناہوں کے وطن کو چھوڑ کر انسان نیکیوں کے وطن کی طرف روانہ ہوتا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: کے دوست اور اس کا نام تو بہ ہے۔معصیت کے دوست اور ہوتے ہیں اور تقویٰ