خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 4
خطبات طاہر جلد ۳ خطبه جمعه ۶ جنوری ۱۹۸۴ء رکھا جائے کہ ان کا تیل اپنے بچے کھچے ہتھیاروں کے بدلے لوٹ لیا جائے ، ان کی دولتیں سمیٹ لی جائیں اور ان کو ایک دوسرے کے قتل پر آمادہ کیا جائے۔تو انتہائی تکلیف دہ اور دکھ کا حال ہے جو نا قابل برداشت ہونا چاہئے ایک مسلمان کے لئے۔جماعت احمدیہ کو میں آج خاص طور پر تاکید کرتا ہوں کہ بے حد درد اور کرب کے ساتھ، با قاعدگی سے عربوں کے لئے دعائیں کریں یعنی ایک دفعہ کی یا دو دفعہ کی دعا کا سوال نہیں بلکہ اس کو التزام کے ساتھ پکڑ لیں۔ہر تہجد میں، ہر نماز میں، جہاں تک توفیق ملے یہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس قوم پر فضل فرمائے اور رحم فرمائے اور مصیبتوں اور دکھوں سے نجات بخشے اور ہدایت دے اور اگران کے کسی فعل سے خدا ناراض ہے تو ان سے مغفرت کرے عفو کا سلوک فرمائے اور وہ نور جو پہلے ان سے پھوٹا تھا وہ دوبارہ ان میں بڑی شدت کے ساتھ اور قوت کے ساتھ داخل ہو۔نور مصطفوی مے کو ساری دنیا میں پھیلانے کا موجب بنیں اور صف اول کی قربانیاں جس طرح پہلے انہوں نے دی تھیں دین اسلام کے لئے آئندہ بھی ان کو دین اسلام کی صف اول میں ہی اللہ تعالیٰ رکھے، پیچھے رہ جانے والوں میں شامل نہ کرے۔آنحضرت ﷺ کا عربوں میں سے ہونا ایک اتنا بڑا احسان ہے ساری دنیا پر عربوں کا، اگر چہ بالا رادہ تو نہیں لیکن عرب قوم کا احسان ہے کہ اس میں سے حضرت محمد مصطفی حملے ظاہر ہوئے اور پھر اتنی حیرت انگیز قربانی کی ہے اسلام کے لئے اس قوم نے کہ کوئی نظیر جس کی دنیا میں نظر نہیں آتی۔تو پہلے حضور اکرم ﷺ کی بعثت عربوں میں سے اگر چہ بالا رادہ عرب کا احسان نہیں ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں ضرور کوئی نیکی اور غیر معمولی خوبی دیکھی تھی جوسید الانبیاء ﷺ کو عربوں میں مبعوث فرمایا اور بعد میں ان کے عمل نے ثابت کر دیا کہ اللہ تعالیٰ کا انتخاب بہترین انتخاب تھا۔پس یہ براہ راست ہمارے محسن بنے ، بالا رادہ محسن بنے جب انہوں نے آنحضرت علی کے پیغام کی تائید کی اور بھیڑ بکریوں کی طرح ذبح کئے گئے لیکن پیچھے نہیں ہٹے اور تمام دنیا کو دیکھتے دیکھتے چند سالوں میں نو را اسلام سے منور کر دیا۔آنحضرت علیہ فرماتے ہیں: إِنِّي دَعَوْتُ لِلْعَرَبِ فَقُلْتُ اللَّهُمَّ مَنْ لَقِيَكَ مِنْهُمْ مُؤْمِنًا مُؤْ قِناً بِكَ مُصَدِ قَا بِلقَائِكَ فَاغْفِرْلَهُ أَيَّا مَ حَيَا تِهِ وَهِيَ دَعْوَةُ إِبْرَاهِيمَ