خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 537 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 537

خطبات طاہر جلد ۲ 537 خطبه جمعه ۲۱ /اکتوبر ۱۹۸۳ء نکالتے ہیں وہ یہی ہے کہ یہ قوم مختلف قوموں اور مختلف قسم کے خون کے امتزاج سے پیدا ہوئی ہے اور کسی ایک قوم کی طرف اسے منسوب نہیں کیا جاسکتا۔کچھ کیریکٹر پولینیشین (Polynesian) بحر الکاہل کے جزیروں میں آباد قو میں ) ہیں، کچھ ملائیشین ہیں اور غالبا ملائیشین اثر زیادہ ہے۔خیال یہ ہے کہ پہلے ملائیشین تھے بعد میں Polynesian آ گئے اور ان سے ملاوٹ ہوئی اور کچھ Negroid اثر ہے اس لئے انہیں نہ تو سفیدوں میں شمار کیا جا سکتا ہے، نہ کالوں میں ، نہ زردوں میں ، ان کے بیچ کی کوئی چیز ہے۔بال گھنگھریالے، رنگ گندمی سے کچھ گہرا اور بعض جگہ کھلتا ہوا دکھائی دیتا ہے، کشادہ سینے، قد لمبے، بڑی مضبوط قوم ہے اور مزاج کی بھی اچھی ہے۔اس میں وحشت زیادہ نہیں پائی جاتی اگر چہ پرانے زمانوں میں یہاں آدم خور بھی پائے جاتے تھے۔تعلیم یافتہ طبقہ بہت سمجھے ہوئے مزاج کا ہے۔ضد اور تعصب نہیں ہے۔دلائل سن کر فوراً اور بے تکلف تسلیم کرتے ہیں۔یہ قوم بالعموم پسماندہ ہے اور ان کے بہت سے حصے ابھی تک جنگلی زندگی گزار رہے ہیں۔وہ مختلف قبائل میں بٹے ہوئے ہیں لیکن انگریزوں نے انہیں آزاد کرنے سے پہلے ایسی کانسٹی ٹیوشن دے دی کہ جس کے نتیجہ میں ہمیشہ اس بات کی ضمانت ہو کہ زمینوں کی اصل ملکیت بھی فجین کی رہے گی اور حاکم بھی نہین ہی رہیں گے اور کانسٹی ٹیوشن کے مطابق فحمین کے حقوق کی غیر معمولی حفاظت کی گئی ہے اس لئے یہ قوم ان لوگوں کی نظر میں جو یہاں اسلام پھیلانا چاہیں، بہت ہی اہم ہے۔ہندوستانی آبادی کے لوگوں میں اکثریت ہندوؤں کی ہے جن میں ایک حصہ سکھوں کا ہے اور ہندوؤں میں سے سناتن دھرمی زیادہ ہیں اور آریہ نسبتاً کافی کم ہیں اور مسلمانوں کی تعداد کل آبادی کی آٹھ فیصد ہے۔وہاں کا ماحول تبلیغی نقطہ نگاہ سے بہت بہترین ہے کیونکہ ان میں باہمی محبت اور سلوک پایا جاتا ہے اور ان میں مذہبی اشتعال انگیزیاں اور منافرتیں نہیں ملتیں اور ہندوسکھ اور مسلمان سارے بڑی محبت سے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون سے رہ رہے ہیں۔اسی طرح عیسائیوں کی (یورپین میں سے نحین میں سے بھی) ایک بہت بڑی تعداد مسلمانوں اور ہندوؤں اور سکھوں کے ساتھ مل جل کر رہ رہی ہے۔فجیئز کے قدیم مذاہب کی شکلیں کچھ افریقین مذاہب سے ملتی ہیں اور ان میں عمومی طور پر کچھ شرک پایا جاتا ہے جو مذاہب کے بگڑنے کے نتیجہ میں رفتہ رفتہ راہ پا لیا کرتا ہے۔مجینز (Fijians) کا ایک مذہب بیان کرنا ممکن نہیں۔وہ خدا کے قائل ہیں اور ایک تخلیقی روح