خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 520
خطبات طاہر ۲ 520 خطبه جمعه ۱۴ را کتوبر ۱۹۸۳ء پائے اور جو اس سے تعلق جوڑے وہ پہلے سے بہتر ہونا شروع ہو جائے۔اگر کسی انسان میں یہ مادہ پیدا ہو جائے کہ جو اس سے تعلق جوڑے وہ بہتر ہونا شروع ہو جائے تو وہ صفت ربوبیت کا مظہر سمجھا جاتا ہے۔یہ صفت سب سے زیادہ حضرت محمد مصطفی علیہ میں پیدا ہوئی کیونکہ آپ اللہ تعالیٰ کی صفات کے مظہر اتم تھے۔پارس پتھر کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ جو چیز اس سے لمس کرتی ہے وہ سونا بن جاتی ہے۔پارس پتھر کی محمد مصطفی ﷺ کی جوتیوں کے مقابل پر کیا حیثیت ہے۔آپ جس جگہ سے گزرتے تھے اس جگہ کو تبدیل کرتے چلے جاتے تھے۔آپ نے ایک نہایت ہی حیرت انگیز انقلاب برپا کیا ہے۔آپ نے ایک نہایت ہی اردنی اور ذلیل سوسائٹی کو پکڑا ہے اور انتہائی بلند مقامات پر پہنچا دیا ہے۔اس کو کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کی صفت ربوبیت کا مظہر اتم۔اتمام ربوبیت کا مضمون بہت وسیع ہے اور بڑا پھیلا ہوا ہے اس کے اندر خدا کی کئی صفات آ جاتی ہیں جور بوبیت کے تابع جلوہ دکھاتی ہیں۔قرآن کریم میں جہاں جہاں رب کا ذکر ہے وہاں کبھی کسی صفت کا اس ضمن میں ذکر ہے اور کبھی کسی صفت کا اس ضمن میں ذکر ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جب آپ ربوبیت کے دروازے سے حمد میں داخل ہوں گے تو آپ کے لئے ایسی بہت سی نئی نئی گلیاں کھلیں گی ، نئے نئے راستے کھلیں گے کہ جن میں سفر کرتے ہوئے آپ پہلے سے زیادہ حسن اختیار کرتے چلے جائیں گے۔پس یہ ہے حمد کا مضمون جو آپ کی روز مرہ کی زندگی میں داخل ہو جائے گا۔پھر فرمایا الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ صفت رحمان کے اندر تو یہ جلوہ ہے کہ کوئی انسان مانگے یا نہ مانگے وہ فیض آپ اس کو پہنچا دیں۔وہ ناشکرا بھی ہوتب بھی آپ اس کو فیض پہنچائیں ، وہ آپ کو گالیاں دینے والا بھی ہوتب بھی آپ اس کو فیض پہنچا ئیں۔چنانچہ رحمانیت وہ عمومی فیض ہے جس میں سارے بنی نوع انسان شامل ہیں۔اس کے بعض پہلوؤں کے متعلق میں پہلے بیان کر چکا ہوں آج میں صرف اتنا ہی اس کے متعلق کہتا ہوں کہ رحمانیت کے بعض پہلو ایسے ہیں جن میں کافر، مشرک بھی برابر کا شریک ہوتا چلا جاتا ہے اور کوئی جو مرضی کے خدا کو گالیاں دے، اس کے متعلق گندی زبان استعمال کرے، خدا کے ماننے والوں کو دکھ دے تب بھی صفت رحمانیت کے ماتحت قدرت اس پر فضل کرنے سے نہیں رکھتی۔تبلیغ کا بھی رحمانیت سے ایک گونا تعلق ہے کیونکہ تبلیغ کی راہ میں خدا کے بندے آپ سے بعینہ وہ سلوک کرتے ہیں جو بعض ظالم بندے اپنے رحمان خدا سے بھی کر رہے