خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 474 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 474

خطبات طاہر جلد ۲ 474 خطبه جمعه ۹ ر ستمبر ۱۹۸۳ء قوت عمل پیدا ہو جاتی ہے جو خدا کی رضا کی خاطر اپنی جان اور اپنے مال اس وجہ سے پیش کر دیتے ہیں کہ مرنے کے بعد ان کو کچھ ملے گا۔اس دنیا میں جو نعمتیں ان کے سامنے ہوتی ہیں اور جو فتوحات ان کے سامنے ہوتی ہیں ان کے لئے تو ان کی قوت عمل کی تو کوئی انتہا نہیں رہ سکی۔نسبتا کمزور ایمان والوں میں بھی غیر معمولی عمل کا جذبہ پیدا ہو جاتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے اس وجہ سے کہ دنیا دار آگے نہ آجائیں اور واقعہ اللہ پر ایمان رکھنے والے آگے آئیں اور ایک عظیم الشان زندہ قوم پیدا ہو، یہ شرط رکھ دی کہ جو کچھ ہم تم سے لیں گے وہ تو حاضر ہوگا وہ تمہیں نظر آرہا ہو گا اور جو کچھ ہم تمہیں دیں گے وہ وعدوں پر ہوگا اور تمہیں نظر نہیں آرہا ہوگا۔پس ایسے رستے پر صرف وہی لوگ چل سکتے ہیں جن کو غیب پر کامل ایمان ہو اور اول اور آخر مقصد سو فیصد خدا تعالیٰ ہی ہو اور اس کی خاطر وہ اپنے ہاتھ آئی ہوئی زندگی کو چھوڑنے کے لئے تیار ہوں۔ایسے لوگوں کو جب خدا ملتا ہے تو پھر ان کو بعد کی جنت کا انتظار نہیں کرنا پڑتا۔خدا کے ساتھ ساتھ یہ دنیا بھی ان کومانی شروع ہو جاتی ہے۔چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے کہ ویسے آزمائش کی خاطر ہم وعدے تو یہ کرتے ہیں کہ مرنے کے بہت دیر بعد ہم ان کو دیں گے لیکن جب ان کے دل کی صفائی دیکھتے ہیں، جب ان کو ہر قربانی پر آمادہ پاتے ہیں کہ خدا کی خاطر سب کچھ لٹانے کے لئے تیار ہو گئے ہیں تو پھر اس دنیا میں بھی وہ جنت عطا کر دیتے ہیں جس کے وعدے دیئے جاتے ہیں۔چنانچہ فرشتے نازل ہو کر ان کو یہ خبریں دیتے ہیں: وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ (تم السجدة : ۳۱) کہ جن جنتوں کے تم سے وعدے کئے گئے تھے کہ تمہاری موت کے بعد ملیں گی اللہ اس موت کا انتظار نہیں کرے گا۔وہ اسی دنیا میں وہ جنتیں تمہیں دینے کا فیصلہ کر چکا ہے۔پس اس دنیا میں جو جنت عطا ہوتی ہے وہ دراصل تسکین قلب کی صورت میں ملتی ہے۔وہ ایک لذت ہے خدا کو پالینے کی اور وہی لذت دراصل جنت ہے لیکن اس کے علاوہ وہ جنت دنیا میں ان کو عطا کی جاتی ہے یہ بھی ایک تقدیر الہی ہے۔چنانچہ یہ لوگ پھر آگے جا کر دو قسم کے سلوک کرتے ہیں۔جہاں تک خدا کو پانے کی جنت ہے اسی پہ راضی ہو جاتے ہیں اور جو دنیا ان کو عطا ہوتی ہے اس میں پھر یہ دلچسپی نہیں لیتے۔اس کے لئے پھر مزید دنیا کو عطا کرنے کے درپے ہو جاتے ہیں اور دنیا والوں کو بانٹنے لگ جاتے ہیں اور خود محض خدا