خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 394 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 394

خطبات طاہر جلد ۲ 394 خطبہ جمعہ ۲۹؍ جولائی ۱۹۸۳ء یہ آیات جو میں نے تلاوت کی ہیں ان میں پہلی آیت میں موخر الذکر دو طاقتوں یعنی خوف اور طمع کا ذکر کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ مومن پر خوف اور طمع دنیا والوں کے خوف اور طمع کے مقابل پر کس طرح اثر انداز ہوتا ہے۔فرمایا جہاں تک مومن کا تعلق ہے ان دونوں طاقتوں کا رخ اللہ کی جانب ہے، اسے کبھی کسی غیر کا خوف کسی حرکت پر آمادہ نہیں کرتا۔اسی طرح جہاں تک طمع کا تعلق ہے وہ بھی خالصہ اللہ ہی کی طرف رخ کئے ہوئے ہوتی ہے اور کبھی کسی حالت میں بھی غیر اللہ کا لالچ اسے کسی حرکت پر آمادہ نہیں کرتا۔پس جہاں تک خدا کے خوف اور خدا کے فضلوں کی طمع کا تعلق ہے وہ مومن کی زندگی پر اس شدت سے قبضہ کر لیتی ہے کہ نہ اسے دن کو چین آتا ہے اور نہ رات کو ، جب دنیا امن سے رات کو سوئی ہوئی ہوتی ہے وہ بے قرار ہو کر بستروں کو چھوڑ دیتے ہیں۔يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا اپنے رب کو خوف سے بھی پکارتے ہیں اور طمع سے بھی پکارتے ہیں۔وَّ مِمَّا رَزَقْتُهُمْ يُنْفِقُونَ اور پھر ہم جو کچھ انہیں عطا کرتے ہیں اس میں سے وہ آگے دنیا میں خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔اس کے مقابلہ پر جہاں تک دنیا کی قوت عمل کا تعلق ہے وہ ہر صورت میں غیر اللہ کے خوف سے چلتی ہے اور غیر اللہ کی طمع میں حرکت کرتی ہے۔مثلاً ایک بچہ جب خوف کی حالت میں ہوتا ہے تو اس کے ذہن میں سب سے پہلے ماں کا خیال آتا ہے۔وہ کسی جنگل بیابان میں ہوا سے علم بھی ہو کہ ماں اس کی آواز نہیں سن سکتی تب بھی لازماً بے اختیار اس کے منہ سے ماں کا لفظ نکلے گا۔یہ اس کے دل کی سچائی ہے جو اسے ماں کو بلانے پر آمادہ کرتی ہے۔ہوسکتا ہے ایک بیٹا اپنے باپ کو پکارے یاوہ قومیں جن کے ہاں پولیس کا نظام بہت اچھا ہوتا ہے وہاں جب بھی کوئی آدمی خوف میں مبتلا ہوتا ہے سب سے پہلے اس کے ذہن میں پولیس کا خیال آتا ہے۔چنانچہ جگہ جگہ پولیس کے ٹیلیفون نمبرز لگے ہوتے ہیں یہاں تک کہ گھروں میں بھی آویزاں رہتے ہیں۔چنانچہ جہاں خطرہ لاحق ہوا وہاں فوری طور پر اس نمبر کو ڈائل کر دیا جاتا ہے۔تو گویا ہر شخص کے خوف کے لئے اس کا ایک رب ہوتا ہے اور اچانک فوری طور پر جب بھی کوئی خوف لاحق ہوتا ہے بے اختیار وہی وجوداس کے ذہن میں آجاتا ہے جو اس کے نزدیک سب سے زیادہ طاقتور ہے اور جوسب سے زیادہ اس بات کے قابل ہے کہ اسے خوف سے نجات بخشے۔پرانے زمانوں میں لوگ بادشاہوں کی دُہائیاں دیا کرتے تھے اور تاریخ سے ثابت ہے کہ ایسے موقع پر جب کہ عورتوں کو علم تھا کہ ان کی آواز بادشاہ تک نہیں پہنچے