خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 34
خطبات طاہر جلد ۲ 34 خطبه جمعه ۱۴/ جنوری ۱۹۸۳ء تو بہ کر رہے ہوتے ہیں اس وقت بھی واقعی دل خدا کے حضور نرم ہوا ہوتا ہے، جب وہ گناہ کر رہے ہوتے ہیں تو واقعی گناہ کی طرف مائل ہوتے ہیں اس لئے ان کی سزا کا نظارہ بھی ویسا ہی دکھایا کہ بیماری کا گھیرا پڑا ہوا ہے اس سے نکل نہیں سکیں گے لیکن تھوڑ اسا ریلیف ہو جایا کریگا، کچھ سکون مل جایا کریگا ، پھر اس کے بعد دوبارہ واپس۔پھر وہ باہر نکلیں گے ، پھر تھوڑا سا سکون ملے گا ، پھر دوبارہ واپس جہنم میں ڈال دیئے جائیں گے۔پس خدا نے اس بیماری کو بھی خوب کھول کھول کر واضح کر دیا لیکن اس کے باوجود مایوسی سے منع فرمایا کیونکہ بیماری کا گھیرا انسان کو پڑ سکتا ہے خدا کو تو کوئی بیماری نہیں گھیر سکتی کیونکہ وہ ہر گھیرے سے آزاد اور ہر عیب سے پاک ہستی ہے۔وہ اگر رحم کرنا چاہے اور اس سے دعا کا تعلق جوڑا جائے تو گناہ خواہ کتنے ہی بڑے ہوں وہ سارے کے سارے ختم ہو سکتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی مغفرت انسان کو پوری طرح ڈھانپ سکتی ہے۔یہ باتیں بیان کرنے کے ساتھ اس پہلو کو بھی خوب کھول کر بیان فرما دیا تا کہ کسی کے دل میں مایوسی گھر نہ کر لے۔وہ یہ نہ سمجھ لے کہ چونکہ میری برائی نے گھیرا ڈال لیا ہے اس لئے میں ہمیشہ کے لئے جہنمی ہو چکا، اب میرے بچنے کی کوئی راہ نہیں چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ اس کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: قُلْ يُعِبَادِيَ الَّذِيْنَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ ط الرَّحِيمُ (الزمر :۵۴) اے میرے بندو! جنہوں نے اپنے نفوس پر بے انتہا زیادتیاں کی ہیں ، ہر موقع پر اسراف سے کام لیا ہر موقع پر گناہ میں ملوث ہو گئے یعنی ایک بدی میں نہیں گویا دنیا کی سب بدیوں نے ان کے گھیرے ڈال لئے۔لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ الله تب بھی اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا۔اِنَّ اللهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا اگر تم سچی توبہ کرو گے ( یہاں بظا ہر تو بہ کا ذکر نہیں لیکن دوسری آیتوں میں اس مضمون کو کھولا گیا ہے اس لئے اس کا مفہوم اس آیت کے اندر داخل ہے ) تو وہ تمام گناہوں کو بخشنے کی طاقت رکھتا ہے، وہ مالک ہے اِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ وہی تو ہے جو غفور رحیم ہے اس کے سوا ہے کون جو غفور رحیم ہو۔